دبئی17ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)ماسکو نے شام کے صوبے دیر الزور میں روسی افواج کی طرف سے سیریئن ڈیموکریٹک فورسز )ایس ڈی ایف( کو بم باری کا نشانہ بنائے جانے کی تردید کی ہے۔ تاہم دوسری جانب داعش کے خلاف امریکی قیادت میں سرگرم بین الاقوامی اتحاد نے روسی بم باری اور بعض عناصر کے زخمی ہونے کی تصدیق کر دی۔
بین الاقوامی اتحاد کے آپریشن کے ترجمان کرنل ریان ڈیلن نے ہفتے کو رات گئے اپنی ٹوئیٹ میں ایک زخمی کی تصویر پوسٹ کی ہے۔ تصویر کے اوپر تحریر ہے کہ "بین الاقوامی اتحاد اور سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کے زیر انتظام طبی عملہ روسی حملے کے ایک زخمی کو علاج فراہم کر رہا ہے"۔ ڈیلن نے مزید بتایا کہ "مقامی قبائل کے متعدد افراد ایس ڈی ایف میں شامل ہو کر داعش کے خلاف لڑ رہے ہیں"۔پینٹاگون نے بھی اتوار کے روز ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ "روسی طیاروں نے ایک ٹھکانے پر حملہ کیا جس کے بارے میں روس کو معلوم تھا کہ وہاں ایس ڈی ایف کے اہل کار اور بین الاقوامی اتحاد کے مشیران موجود ہیں"۔
بین الاقوامی اتحاد نے ہفتے کے روز روسی فضائیہ پر الزام عائد کیا تھا کہ اس کے حملے کے نتیجے میں سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کے جنگجو زخمی ہو گئے ہیں۔ اتحاد نے ایک بیان میں کہا کہ "روسی افواج نے شام میں دیر الزور کے نزدیک فرات کے مشرق میں ایک ہدف کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں اتحاد کی شراکت دار فورسز کے متعدد عناصر زخمی ہوئے ، ان افراد کو طبی امداد فراہم کر دی گئی"۔بیان کے مطابق حملے میں کوئی عسکری مشیر زخمی نہیں ہوا۔بین الاقوامی اتحاد کی فورسز کے کمانڈر امریکی جنرل پال وینک کے مطابق اس بات کی حتی الامکان کوشش کی جا رہی ہے کہ مشترکہ دشمن یعنی داعش کے خلاف بر سر پیکار فورسز کے درمیان کسی بھی قسم کی جارحیت سے گریز کیا جائے۔