کوئمبٹور ،12؍اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا ) شراب کی ایک دکان کے خلاف مظاہرے پر کارروائی کے دوران ایک پولیس افسر کی طرف سے ایک خاتون پرحملہ کرنے کے نتیجہ میں پیداہوئے عوامی غم و غصہ کے بعد تمل ناڈو حکومت نے آج تروپور ضلع میں اس دکان کو بند کرنے کی ہدایت دی ہے۔کیمرے میں قید ہوئی افسر کی اس حرکت کی سخت مذمت اور مخالفت کی گئی۔ضلع انتظامیہ نے تروپور سے تقریبا 20کلومیٹر دور سمالاپور م کی شراب کی دکان کو بند کرنے اور اس واقعے کی جانچ کی ہدایت دی ہے ۔یہ واقعہ کل شام اس وقت پیش آیا ، جب خواتین سمیت دیگر لوگوں کے ایک گروپ نے سرکاری ٹی اے ایس ایم اے سی شراب کی دکان کو بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک راستہ میں رکاوٹ پیدا کی تھی ۔ہائی وے کے 500میٹر کے دائرے میں شراب کی فروخت پر پابندی کے فیصلہ کے نتیجے میں یہ دکان ان کے علاقے میں کھلی تھی۔جب مظاہرین نے ہٹنے سے انکار کر دیا تو ایڈیشنل پولیس ڈپٹی کمشنر پانڈیاراجن نے لوگوں کو راستہ سے ہٹنے کے لیے کہتے ہوئے ایک خاتون کو مبینہ طور پر تھپڑ مار دیا اور دو دیگر کو دھکا دیا۔اس کی مخالفت کرتے ہوئے مظاہرین کے ایک گروپ نے مبینہ طور پر پولیس پر پتھراؤ کردیا، جس کے بعد پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا۔پولیس نے کہا کہ اس واقعہ میں تین افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے ایک کو اسپتال میں داخل کرانا پڑا۔ڈی ایم کے اور بی جے پی سمیت دیگر سیاسی پارٹیوں نے پولیس کے اس عمل کی مذمت کی ہے ۔ادھر، مدراس ہائی کورٹ میں پولیس افسر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرنے والی دو عرضیاں دائر کی گئی ہیں ۔چیف جسٹس اندرا بنرجی اور جسٹس ایم سندر کی بنچ کے سامنے اس معاملے کا خصوصی طور پر ذکر کئے جانے کے بعد ریاست کے اٹارنی جنرل آر متھو کمارسوامی نے کہا کہ متعلقہ پولیس افسر کے خلاف کارروائی شروع کی جا رہی ہے اور جانچ کی ہدایت دے دی گئی ہے ۔