کرناٹک کی سیاست میں اس وقت سب سے زیادہ بحث کا موضوع نائب وزیر اعلیٰ اور ریاستی کانگریس صدر ڈی کے شیو کمار ہیں۔ ان کے بعض حالیہ اقدامات اور بیانات نے نہ صرف کانگریس کے دیرینہ سیکولر تشخص کو چیلنج کیا ہے بلکہ یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ کیا وہ اقتدار کی کرسی کے لیے پارٹی کے بنیادی نظریات تک قربان کرنے کو تیار ہیں۔ ایوانِ اسمبلی میں آر ایس ایس کا ترانہ پڑھنا ان کے سیاسی سفر کا محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک ایسی سوچ کا اظہار ہے جسے "نرم ہندوتوا" کہا جارہا ہے۔ یہ سوچ کانگریس کو اس کے سب سے بڑے اور فیصلہ کن ووٹ بینک سے دور کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔
شیو کمار اس سے پہلے بھی کئی مواقع پر آر ایس ایس کی مبہم تعریف کرچکے ہیں۔ ان کے بعض بیانات نے ہمیشہ پارٹی کے اندرونی حلقوں کو پریشان کیا ہے، لیکن اب ایوان میں ترانہ پڑھنے کے بعد یہ معاملہ محض اختلاف رائے نہیں بلکہ ایک بڑے نظریاتی بحران کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کانگریس کا ریاستی صدر وہ کیوں کر رہا ہے جس کے خلاف پوری پارٹی اپنی بنیاد سے لے کر قیادت تک لڑنے کا دعویٰ کرتی آئی ہے؟
گزشتہ چند ہفتوں میں شیو کمار کے سیاسی رویے مزید متنازع ہوگئے ہیں۔ بی جے پی کے مقتدر رہنما بی ایل سنتوش کے خلاف تنقید کرنے والے ایک فرد کو قانون کے شکنجے میں لانے کی ان کی براہِ راست ہدایت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ وہ مخالف پارٹی کی خوشنودی کے بھی خواہاں ہیں۔ یہ عمل اس وقت اور بھی متضاد لگتا ہے جب یہی حکومت اور اس کے رہنما مسلمانوں کے خلاف نازیبا بیانات دینے والوں پر کوئی کارروائی نہیں کرتے۔ کیا وجہ ہے کہ ایک عام شہری کے بی ایل سنتوش پر تنقیدی بیان پر ہنگامہ برپا کیا جاتا ہے لیکن اقلیتوں کو بارہا نشانہ بنانے والوں کو چھوٹ ملتی ہے؟ یہ دہرا معیار کرناٹک کے سیکولر عوام کو کانگریس کی نیت پر شک کرنے پر مجبور کررہا ہے۔
شیو کمار کی سیاسی سرگرمیوں کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ وہ کبھی کمبھ میلے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں، کبھی ارب پتی صنعتکاروں کی ذاتی تقریبات میں کانگریس کے مؤقف کے برخلاف شرکت کرتے ہیں، اور کبھی پارٹی قیادت کی رائے سے ہٹ کر اپنے بیانات دیتے ہیں۔ ان کے یہ تمام اقدامات اس تاثر کو جنم دے رہے ہیں کہ وہ وزیر اعلیٰ کی کرسی حاصل کرنے کے لیے ہر ممکن سیاسی حربہ آزمانے پر تلے ہیں۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ وہ دانستہ طور پر یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اگر انہیں وزیر اعلیٰ نہیں بنایا گیا تو ان کے پاس "متبادل راستے" موجود ہیں۔
یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب کانگریس کے کئی اصول پسند اور سیکولر نظریات رکھنے والے لیڈران برملا شیو کمار کے طرزِ عمل پر تنقید کرچکے ہیں۔ خود راہل گاندھی کا وہ بیان بھی یاد آتا ہے جب انہوں نے کہا تھا کہ کانگریس کو سب سے پہلے اپنے اندر موجود آر ایس ایس ذہنیت رکھنے والے افراد سے پاک کرنا ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ اصول شیو کمار پر بھی لاگو ہوں گے یا پھر اقتدار کے کھیل میں سب کچھ نظر انداز کردیا جائے گا؟
کانگریس نے ماضی میں اپنے وزیر این راجنا کو محض پارٹی اصولوں کے خلاف بیان دینے پر کابینہ سے برطرف کردیا تھا، لیکن آج شیو کمار کے اقدامات پر قیادت خاموش ہے۔ آخر یہ خاموشی کیوں؟ کیا اصول صرف چند رہنماؤں کے لیے ہیں اور طاقتور افراد کے لیے رعایت؟
حقیقت یہ ہے کہ نرم ہندوتوا کی سیاست وقتی طور پر شیو کمار کو طاقتور بنا سکتی ہے، مگر طویل مدت میں یہ کانگریس کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہوسکتی ہے۔ اقلیتیں اور سیکولر ذہن رکھنے والے عوام کانگریس کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ اگر یہ طبقہ بداعتمادی کا شکار ہوگیا تو کانگریس کے پاس بچنے کو کچھ نہیں رہے گا۔
یہ وقت ہے کہ کانگریس اپنی صفوں میں موجود اس نرم ہندوتوا کی لہر کو پہچانے اور اس کا دو ٹوک جواب دے۔ اگر یہ روش جاری رہی تو پارٹی نہ صرف اپنے ووٹ بینک سے محروم ہوگی بلکہ زعفرانی طاقتوں کے ہاتھ مضبوط کرنے کا سبب بھی بنے گی۔ سیاست میں حکمتِ عملی ضروری ہے، لیکن اصولوں کی قربانی پر مبنی حکمتِ عملی کبھی دیرپا کامیابی نہیں دلا سکتی۔
کانگریس کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ واقعی ایک سیکولر اور اصولی جماعت ہے یا پھر محض اقتدار کے حصول کے لیے نظریات کا سودا کرنے کو تیار ایک اور جماعت۔ شیو کمار کے حالیہ اقدامات اسی سوال کا سب سے بڑا امتحان ہیں۔
( مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)