ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / اداریہ / ریاستی تہوار پر سیاست کا سایہ ، کیا بانو مشتاق کا قصور ان کی مسلم شناخت ہے؟۔۔۔۔۔۔ از : عبدالحلیم منصور

ریاستی تہوار پر سیاست کا سایہ ، کیا بانو مشتاق کا قصور ان کی مسلم شناخت ہے؟۔۔۔۔۔۔ از : عبدالحلیم منصور

Mon, 01 Sep 2025 11:20:38    S O News
ریاستی تہوار پر سیاست کا سایہ ، کیا بانو مشتاق کا قصور ان کی مسلم شناخت ہے؟۔۔۔۔۔۔ از : عبدالحلیم منصور

میسور کا دسہرا صرف کرناٹک ہی نہیں بلکہ پورے ہندوستان کا عالمی شہرت یافتہ تہوار ہے، جس کی جڑیں صدیوں پرانی تاریخ اور تہذیبی روایت میں پیوست ہیں۔ یہ محض ایک مذہبی تقریب نہیں بلکہ ایک ایسا عظیم الشان اجتماع ہے جو ریاست کی تہذیبی وراثت، فنونِ لطیفہ، عوامی جوش و خروش اور سماجی ہم آہنگی کو یکجا کرتا ہے۔ اسی لیے اسے ’’ناڈا ہبّا‘‘ یعنی ریاستی تہوار کہا جاتا ہے۔ اس کے انتظامات ہمیشہ سے ریاستی حکومت کے زیرِ اہتمام رہے ہیں اور اخراجات عوامی خزانے سے ادا ہوتے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ کسی ایک طبقے یا برادری کی ملکیت نہیں بلکہ سب کا مشترکہ ورثہ ہے۔ یہ تہوار وہ پل ہے جس نے ہمیشہ مختلف مذاہب اور برادریوں کے دلوں کو جوڑنے کا کام کیا اور کرناٹک کو دنیا بھر میں ایک منفرد پہچان بخشی۔اس مرتبہ 22 ستمبر تا 2 اکتوبر میسور دسہرا تقریبات منعقد ہونگی ۔

کرناٹک حکومت نے ایک تاریخ ساز فیصلہ کیا ہے جس پر پورا ملک بجا طور پر فخر کر سکتا ہے۔ حکومت نے طے کیا کہ بین الاقوامی شہرت یافتہ کنڑا ادیبہ اور بُوکر پرائز کی اولین کنڑا نژاد فاتح بانو مشتاق سے دسہرا تقریبات کا افتتاح کرایا جائے۔ یہ انتخاب محض ایک رسمی فیصلہ نہیں بلکہ ایک علامت ہے—ادب، ثقافت اور خواتین کے وقار کو خراجِ تحسین۔ بانو مشتاق نے اپنی تحریروں کے ذریعے خواتین کے حقوق، مساوات، انسانی اقدار اور سماجی انصاف کو نہ صرف کنڑا سماج بلکہ عالمی سطح پر اجاگر کیا ہے۔ ان کی شہرہ آفاق کتاب ہارٹ لیمپ نے عالمی ادب میں کنڑا زبان کا پرچم سربلند کیا۔ وہ صرف ایک مصنفہ نہیں بلکہ عوامی شعور کی ترجمان ہیں، جو اپنے قلم کے ذریعے ناانصافی اور جبر کے خلاف مزاحمت کو آواز بخشتی ہیں۔

مگر افسوس کہ اس فیصلے پر بی جے پی نے سخت مخالفت کی اور چند رہنماؤں نے نفرت آمیز بیانات دیے، جو کرناٹک کی ہم آہنگ روایات پر بدنما دھبہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا محض ایک مسلمان ہونا بانو مشتاق کی علمی عظمت، ادبی قربانیوں اور سماجی خدمات کو بے وقعت بنا دیتا ہے؟ کیا ایک ایسی خاتون، جس نے اپنے فن اور فکر سے کنڑا زبان کو عالمی سطح پر نمایاں کیا، صرف اس لیے نااہل قرار دی جا سکتی ہیں کہ ان کی مذہبی شناخت مختلف ہے؟ یہ طرزِ فکر آئینی اصولوں کے ساتھ ساتھ انسانی وقار اور ریاستی وحدت کے بھی منافی ہے۔

بی جے پی کے ایک سابق رکن پارلیمان نے کہا کہ بانو مشتاق کا مذہب پوجا پاٹ کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ بیان کھلے تعصب اور تنگ نظری کی انتہا ہے۔ تاریخ خود اس بات کی گواہ ہے کہ کنڑا کے معروف شاعر پروفیسر نثار احمد (جو خود مسلمان تھے) نے بھی دسہرا کا افتتاح کیا تھا۔ پروفیسر برگور رام چندرپا جیسے ترقی پسند مفکر نے بھی بغیر کسی مذہبی رسم کے اس کا افتتاح کیا۔ یہاں تک کہ میسور کے عظیم حکمران حیدر علی اور سلطان ٹیپو شہید رحمہ اللہ نے بھی برسوں تک دسہرا تقریبات کا اہتمام کیا تھا۔ اگر ان سب کے عمل پر کسی نے مذہب کا سوال نہیں اٹھایا تو آج ایک ادیبہ کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے؟

یہ بھی حقیقت ہے کہ بانو مشتاق کے خلاف مخالفت میں مذہب کے ساتھ ساتھ جنس کا پہلو بھی شامل ہے۔ وہ ایک خاتون ہیں جنہوں نے خواتین کے مساوات اور حقِ آزادی کو اپنی تحریروں کا محور بنایا۔ ان کی تحریروں میں عورت کی جدوجہد، اس کی شناخت اور اس کی مظلومیت کا عکس ملتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہی جرات مندی اور خواتین کی آواز بلند کرنا بعض حلقوں کو ناگوار گزرا ہو۔ یوں ان کے خلاف یہ دوہرا تعصب—مذہب اور جنس—کارفرما نظر آتا ہے۔

اگر ریاستی خزانے سے ہونے والے اخراجات سے یہ تہوار منایا جاتا ہے تو پھر ریاست کے ہر شہری کو اس میں شریک ہونے اور قیادت کرنے کا مساوی حق حاصل ہے۔ کیا کسی بڑے طبقے کو محض مذہب یا جنس کی بنیاد پر اس حق سے محروم کرنا انصاف ہے؟ یہ سوال ہر انصاف پسند شخص کے ذہن پر دستک دیتا ہے۔

میسور کی تاریخ اس کا جواب بخوبی فراہم کرتی ہے۔ یہ خطہ گنگا جمنی تہذیب اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا درخشاں استعارہ رہا ہے۔ چار دہائیوں تک راج کرنے والے نالواڈی کرشنا راج وڈییر نے 1922 میں اپنے فوجیوں کے لیے چامنڈی ہلز کے دامن میں مسجد تعمیر کرائی اور اپنے خطاب میں کہا تھا کہ "تمہارے گھروں کے ایک جانب مندر ہے اور دوسری جانب مسجد، دونوں مقامات پر ہونے والی عبادت ایک ہی ہے—عقیدت کی نذر اور وحدت میں کثرت کا پیغام۔ یہی ہماری دھرتی کا مذہب ہے۔"

جمبوسواری کا جلوس، چامونڈیشوری کی مورتی، مندروں کی گھنٹیاں، مساجد اور درگاہوں کی دعائیں، چرچوں کی عبادات—یہ سب اس تہوار کی مشترکہ تاریخ کے روشن نقوش ہیں۔ مسلمان کاریگر صدیوں سے اس جلوس کے ہاتھیوں کی پالکیوں کے سنگھار، آتشبازی اور دیگر تیاریوں میں شامل رہے ہیں۔ نالواڈی وڈییر نے مرزا اسماعیل کو شاہی ہاتھی کے امباری میں بٹھا کر جلوس نکالا تھا، حالانکہ کچھ حلقے اس پر مشتعل ہوئے۔ مگر وڈییر نے ڈٹ کر سیکولر روایت کی پاسداری کی، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہی میسور کی اصل روح ہے۔

ان تاریخی حقائق کے تناظر میں بانو مشتاق کی مخالفت سراسر تنگ نظری ہے۔ کیا ایک ادیبہ، جس نے کنڑا زبان کو عالمی سطح پر مقام دلایا اور مساوات و انصاف کی وکالت کی، محض مذہب کی بنیاد پر نااہل قرار دی جا سکتی ہے؟ اگر ایسا ہے تو یہ نہ صرف بانو مشتاق پر حملہ ہے بلکہ کرناٹک کی صدیوں پرانی سیکولر روایت پر بھی حملہ ہے۔

مزید برآں، بانو مشتاق کے ایمان کو چیلنج کرنا بھی بے معنی ہے۔ ایمان ذاتی معاملہ ہے۔ دسہرا کا افتتاح کوئی مذہبی رسم نہیں بلکہ ایک علامتی اور ریاستی فریضہ ہے، جس کا مقصد ریاستی تہذیب اور یکجہتی کو نمایاں کرنا ہے۔ اس سے کسی کے عقیدے پر اثر نہیں پڑتا۔ چونکہ یہ تہوار ’’ناڈا ہبّا‘‘ ہے، یعنی سب کا، اس لیے اس پر مذہب کی بنیاد پر اعتراض سراسر لغو ہے۔

اصل خطرہ یہ ہے کہ ہر معاملے کو مذہب کی عینک سے دیکھنے کا رجحان ہمارے ملک کے سیکولر ڈھانچے کو کھوکھلا کر سکتا ہے۔ آج اگر بانو مشتاق کو ان کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا جاتا ہے تو کل کسی اور اقلیت یا کمزور طبقے کو محروم کیا جا سکتا ہے۔ یہ طرزِ عمل ملک کے مستقبل کے لیے خطرناک ہے اور اس سے سیاسی جماعتوں کا وہ معتدل ووٹ بینک بھی متاثر ہوگا جو فرقہ وارانہ سیاست سے بیزار ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ بانو مشتاق محض ایک مسلمان نہیں بلکہ ایک عالمی اعزاز یافتہ ادیبہ، جرات مند مصنفہ اور ریاست کرناٹک کی نمائندہ ہیں۔ ان کا دسہرا کے افتتاح کے لیے انتخاب اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ تہوار واقعی ’’ناڈا ہبّا‘‘ ہے—سب کا، سب کے لیے اور سب کو جوڑنے والا۔ یہ فیصلہ دراصل جمہوری اقدار، مساوات، سیکولرزم اور ثقافتی ہم آہنگی کی فتح ہے۔

جیسا کہ علامہ اقبال نے کہا ہے:

؎ مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم، وطن ہے ہندوستان ہمارا

( مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)


Share: