بنگلورو 14/جولائی(ایس او نیوز ) شہر میں خواتین کی سلامتی سے متعلق ایک تشویشناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک معروف ای-کامرس کمپنی فلپ کارٹ کے 22 سالہ ڈلیوری ایجنٹ کو ایک خاتون کے ساتھ مبینہ جنسی ہراسانی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ کمپنی نے بھی فوری کارروائی کرتے ہوئے مذکورہ ڈلیوری پارٹنر کی خدمات ختم کر دی ہیں جبکہ پولیس واقعے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق یہ واقعہ بنگلورو کے منّیکولل (Munnekollal) علاقے میں پیش آیا۔ خاتون کے مطابق ڈلیوری ایجنٹ پارسل پہنچانے کے بعد بار بار واش روم استعمال کرنے کی اجازت مانگنے لگا۔ چونکہ وہ گھر میں اکیلی تھیں، اس لیے اس نے حفاظتی خدشات کے پیش نظر متعدد مرتبہ انکار کیا اور مشورہ دیا کہ وہ قریبی عوامی بیت الخلا یا پڑوسی مرد رہائشیوں سے مدد حاصل کرے۔ تاہم الزام ہے کہ ڈلیوری ایجنٹ نے انکار کے باوجود زبردستی گھر میں داخل ہو کر واش روم استعمال کیا۔
خاتون کا کہنا ہے کہ جب وہ اس کے رویے سے خوفزدہ ہو کر ویڈیو ریکارڈ کرنے لگیں تو واش روم سے باہر آنے کے بعد اس نے مبینہ طور پر نامناسب حرکت کرتے ہوئے خود کو برہنہ انداز میں اس کے سامنے پیش کیا اور پھر وہاں سے فرار ہو گیا۔ خاتون نے بعد ازاں اپنی روداد سوشل میڈیا پر ویڈیو کے ذریعے بیان کی، جس کے بعد یہ معاملہ تیزی سے وائرل ہوگیا اور عوامی غم و غصے کا سبب بنا۔
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بنگلورو پولیس نے خود خاتون سے رابطہ کیا اور اس کی شکایت کی بنیاد پر مقدمہ درج کرتے ہوئے ملزم وجئے ملیکارجن کامت (22) کو گرفتار کر لیا۔ وائٹ فیلڈ کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس سیدولو اداوتھ کے مطابق ملزم کے خلاف بھارتیہ نیایا سنہیتا (BNS) کی متعلقہ دفعات 75، 79 اور 329(2) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
دوسری جانب دورانِ تفتیش ملزم نے پولیس کو بتایا کہ وہ صرف ہنگامی ضرورت کے باعث واش روم استعمال کرنے کے لیے اندر گیا تھا اور اس نے خاتون کے دیگر الزامات سے انکار کیا ہے۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی ہر پہلو سے تحقیقات جاری ہیں اور دستیاب ویڈیو سمیت دیگر شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
فلپ کارٹ نے ایک بیان میں کہا کہ وہ اس واقعے سے "شدید صدمے" میں ہے۔ کمپنی کے مطابق صارفین کی سلامتی اس کی اولین ترجیح ہے، اس لیے متعلقہ ڈلیوری پارٹنر کو فوری طور پر خدمات سے برطرف کر دیا گیا ہے اور پولیس تحقیقات میں مکمل تعاون کیا جا رہا ہے۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی بڑے پیمانے پر زیرِ بحث ہے، جہاں صارفین نے خواتین کی سلامتی، ڈلیوری ایجنٹس کی جانچ پڑتال اور ای-کامرس کمپنیوں کے حفاظتی نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں۔ کئی صارفین نے مطالبہ کیا ہے کہ کمپنیوں کو اپنے ڈیلیوری عملے کی سخت اسکریننگ، تربیت اور جوابدہی کا مؤثر نظام نافذ کرنا چاہیے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔