ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / اداریہ / مسلم لڑکیوں کی حرمت پر سیاست ، یتنال کے اشتعال انگیز الفاظ اور حکومت کی مجرمانہ خاموشی۔۔۔۔۔۔۔از : عبدالحلیم منصور

مسلم لڑکیوں کی حرمت پر سیاست ، یتنال کے اشتعال انگیز الفاظ اور حکومت کی مجرمانہ خاموشی۔۔۔۔۔۔۔از : عبدالحلیم منصور

Sat, 23 Aug 2025 12:39:41    S O News

؏ گفتار کے غازی بہت ملیں گے 
کردار کے سپاہی کہاں تلاش کروں

کرناٹک کی سیاست ایک بار پھر نفرت اور منافرت کے گرداب میں الجھتی جا رہی ہے۔ بی جے پی سے معطل شدہ وجےپور (بیجاپور) کے رکن اسمبلی بسونّا گوڑا پاٹل یتنال کے حالیہ بیان نے نہ صرف ریاست بلکہ پورے ملک میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ’’ اگر کوئی ہندو نوجوان مسلم لڑکی سے شادی کرے گا تو اسے پانچ لاکھ روپے نقد انعام دیا جائے گا۔‘‘ یہ جملہ محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ مسلم خواتین کی عزت و حرمت پر کھلا حملہ اور سماجی تانے بانے کو پارہ پارہ کرنے کی شعوری کوشش ہے۔

یہ بیان دراصل اس ذہنیت کا عکاس ہے جو عورت کو محض ایک ’’شے‘‘ کے طور پر دیکھتی ہے اور اسے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے ہتھیار بناتی ہے۔ مسلم خواتین کی توہین کے ساتھ ساتھ یہ قدم پورے طبقے میں خوف اور عدم تحفظ کی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اس پر نہ صرف قانونی بلکہ سماجی سطح پر بھی شدید ردعمل ناگزیر ہے۔

شادی انسان کی زندگی کا سب سے پاکیزہ بندھن ہے۔ یہ صرف دو افراد کا ملاپ نہیں بلکہ خاندانوں، رسم و رواج اور اقدار کو جوڑنے والا رشتہ ہے۔ مگر یتنال نے اس مقدس تعلق کو سیاسی ہتھکنڈوں کا حصہ بنا کر عورت کی عظمت کو مجروح کیا۔ گویا عورت ایک "ٹرافی" ہے جسے جیتنے پر پانچ لاکھ روپے دیے جائیں گے۔

یہ سوچ نہ صرف خواتین کی توہین ہے بلکہ سماج میں عدم تحفظ، خوف اور نفرت کو پروان چڑھانے کی سازش ہے۔ یہ بیانیہ عورت کے وقار، آزادی اور شخصیت کے انکار کے مترادف ہے۔ اور اس بات کا اظہار ہے کہ ہمارے سماج میں آج بھی خواتین کو ان کے حقوق سے زیادہ سیاست کا ایندھن سمجھا جاتا ہے۔

یتنال کا حالیہ بیان ان کی ذہنیت کا پہلا اظہار نہیں۔ ان کا سیاسی ریکارڈ نفرت اور اشتعال انگیزی کی طویل تاریخ رکھتا ہے۔اور اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ وہ بارہا مسلم مخالف بیانات دے کر ماحول کو زہر آلود کرتے رہے ہیں۔ ماضی میں انہوں نے کہا تھا کہ ’’مسلمان جمہوریت کے دشمن ہیں، انہیں سرکاری اداروں میں جگہ نہیں دینی چاہئے۔‘‘ایک موقع پر انہوں نے مسلمانوں کو ’’غدار‘‘ قرار دے کر پورے طبقے کو بدنام کیا۔

حساس مذہبی معاملات میں بھی انہوں نے غیر ذمہ دارانہ کلمات ادا کیے جن سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے۔

یہی وجہ ہے کہ بی جے پی نے مارچ 2025 میں انہیں معطل کر دیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ان کی زبان اور رویہ بی جے پی کے لیے بھی ناقابلِ برداشت تھا، تو ریاستی حکومت ان کی اسمبلی رکنیت برقرار رکھ کر کیا پیغام دینا چاہتی ہے؟کیا خاموشی دراصل فرقہ پرستوں کو کھلی چھوٹ دینے کے مترادف نہیں؟

مسلم لڑکی سے محبت کی پاداش میں ہونے والے ایک قتل کے واقعے کو لیکر اس طرح کا غیر ذمہ دار بیان دیا گیا۔کوپّل شہر پہلے ہی گوی سدّپّا نائک کے قتل کے بعد کشیدگی میں مبتلا تھا۔ ایک ذمہ دار رہنما کا فرض تھا کہ وہ حالات کو ٹھنڈا کرے اور عوام کو اتحاد کا پیغام دے۔ لیکن یتنال نے جان بوجھ کر آگ پر تیل ڈالنے کی کوشش کی۔ یہ بیان اس موقع پر دینا دراصل واضح اشارہ ہے کہ ان کی سیاست کا ایندھن ہی فرقہ واریت اور سماجی تقسیم ہے۔

اس معاملے کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ کرناٹک کی کانگریس حکومت نے اب تک اس پر کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا۔ نہ اسمبلی میں اس پر سخت ایکشن لیا گیا اور نہ ہی رکنیت منسوخی کی بات کی گئی۔ حکومت کی یہ مجرمانہ خاموشی نہ صرف مایوس کن ہے بلکہ خطرناک بھی، کیونکہ اس سے یہ پیغام جاتا ہے کہ اقتدار کی کرسی بچانے کے لیے فرقہ وارانہ زہر کو برداشت کیا جا سکتا ہے۔

کیا حکومت کا فرض صرف اقتدار قائم رکھنا ہے یا پھر عوام، خواتین کی حرمت اور سماجی ہم آہنگی کا تحفظ بھی اس کی ذمہ داری ہے؟ یہ سوال آج ہر انصاف پسند شہری کے ذہن میں گونج رہا ہے۔

ہندوستان کی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ فسادات ہمیشہ ایسے اشتعال انگیز بیانات اور افواہوں سے جنم لیتے ہیں۔ بیلگاوی، منگلورو اور دیگر مقامات کے فسادات اس کے ثبوت ہیں۔ یتنال جیسے لیڈران اسی آزمودہ حربے کو دہرا رہے ہیں۔ یہ کھیل وقتی سیاسی فائدہ تو پہنچا سکتا ہے مگر اس کا نقصان نسلوں تک بھگتنا پڑتا ہے۔ اگر آج ایسے بیانات کو کچلنے کے بجائے نظر انداز کیا گیا تو کل کو یہ زہر ہماری جمہوریت کے لیے ناسور بن جائے گا۔

ہندوستانی آئین ہر شہری کو مساوات، آزادی اور وقار کا حق دیتا ہے۔ آرٹیکل 21 کے تحت "زندگی اور آزادی" کا تحفظ بنیادی حق ہے۔ خواتین کے وقار پر حملہ نہ صرف اخلاقی جرم ہے بلکہ آئینی خلاف ورزی بھی ہے۔ ایک عوامی نمائندے کی زبان سے نکلے ایسے الفاظ آئین کی روح کی پامالی ہیں۔

اب معاملہ محض پولیس کیس یا رسمی مذمت تک محدود نہیں رہ سکتا۔ یتنال جیسے رہنما کی اسمبلی میں موجودگی بذاتِ خود جمہوریت کی توہین ہے۔ ان کی رکنیت فوراً منسوخ ہونی چاہئے تاکہ یہ پیغام جائے کہ خواتین کی تضحیک برداشت نہیں ہوگی۔ فرقہ وارانہ نفرت کی کوئی جگہ نہیں۔اور عوامی نمائندے اپنے الفاظ کے ذمہ دار ہیں۔یہ اقدام صرف ایک فرد کو سزا دینے کے لیے نہیں بلکہ ایک مثال قائم کرنے کے لیے ضروری ہے تاکہ آئندہ کوئی سیاست دان ایسی جرات نہ کرے۔

آج سوال سیدھا ‌ہے کہ کیا حکومت امن، انصاف اور خواتین کے وقار کے ساتھ کھڑی ہے؟ یا نفرت کے سوداگروں اور فرقہ پرستوں کے ساتھ؟ اس سوال کا جواب صرف الفاظ سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے دینا ہوگا۔

اگر حکومت واقعی جمہوریت کی محافظ ہے تو اسے یتنال جیسے عناصر کو بے نقاب کر کے ان کا سیاسی مستقبل ختم کرنا ہوگا۔ یہی وہ دوٹوک فیصلہ ہے جو سماج میں امن اور خواتین کے وقار کو یقینی بنا سکتا ہے۔

میرے خیال میں یتنال کا حالیہ بیان محض ایک سیاسی شگوفہ نہیں بلکہ مسلم خواتین کی تضحیک، سماجی ہم آہنگی پر حملہ اور جمہوری اقدار کی پامالی ہے۔ اس پر خاموشی ریاست کے ضمیر پر بدنما داغ ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت دو ٹوک فیصلہ کرے ،یا تو وہ عوام اور خواتین کے ساتھ کھڑی ہے یا پھر نفرت کے سوداگروں کے ساتھ۔اگر واقعی ملک اور ریاست میں امن، بھائی چارہ اور جمہوریت عزیز ہیں تو یتنال جیسے عناصر کو کٹہرے میں لانا اور ان کی رکنیت منسوخ کرنا ہی واحد راستہ ہے۔ یہی پیغام آج ہر انصاف پسند، ہر ذمہ دار شہری اور ہر باوقار خاتون کے دل کی آواز ہے۔

( مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)


Share: