ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / اداریہ / بھٹکل : 'ڈیٹنگ' اور بیٹنگ ایپس بن رہے ہیں نوجوانوں کی گمراہی اور رسوائی کا ذریعہ؛ کیا سماجی ادارے توجہ دیں گے ؟

بھٹکل : 'ڈیٹنگ' اور بیٹنگ ایپس بن رہے ہیں نوجوانوں کی گمراہی اور رسوائی کا ذریعہ؛ کیا سماجی ادارے توجہ دیں گے ؟

Sat, 09 Aug 2025 10:19:39    S O News

بھٹکل ، 9 / اگست (ایس او نیوز) جس طرح پورے ملک میں نوجوان لڑکے لڑکیوں کی دوستی کروانے اور انہیں سیر و تفریح فراہم کرنے کے نام پر 'ڈیٹنگ' اور جوئے بازی کی لت لگاتے ہوئے معاشی اور اخلاقی طور پر تباہ کرنے والے 'ڈیٹّنگ' اور 'بیٹّنگ' ایپس کا شکار بنایا جا رہا ہے اس سے ضلع اتر کنڑا بھی محفوظ نہیں ہے ۔
    
حالیہ دنوں میں اس طرح کے ایپس اور سوشیل میڈیا پلیٹ فارمس نوجوان نسل میں بہت مقبول ہوگئے ہیں ۔ ان ایپس کے ذریعے نوجوانوں کو اخلاقی اقدار، خاندانی تانے بانے اور سماجی پابندیوں سے بغاوت کرنے اور آزادی کے نام پر ہر قسم کی بے راہ روی اختیار کرنے کے راستے فراہم کیے جاتے ہیں ۔
    
اس کا نتیجہ یہ ہو رہا ہے کہ ایک طرف  بیٹّنگ ایپس کے جال میں پھنس کر مالی طور پر تباہ ہونے کے بعد رسوائی سے بچنے اور حالات کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہو کر نوجوانوں کی خود کشی یا پھر جرائم کی راہ پر چل پڑنے کے معاملات ہمارے ضلع اتر کنڑا میں بھی پیش آ چکے ہیں ۔ تو دوسری طرف  ڈیٹنگ ایپس کے ذریعے اخلاقی جرائم، جنسی جرائم اور پوکسو جیسے معاملات میں نوجوان لڑکوں کے علاوہ بڑی عمر کے مردوں کے پھنسنے کے واقعات بھی پیش آ رہے ہیں ۔ بعض دفعہ ڈیٹنگ ایپ کے ذریعے سے ہنی ٹریپنگ اور بلیک میلنگ کے جال میں بھی پھنسنے کے واقعات پیش آ چکے ہیں ۔
    
اس قسم کے ایپس شروع میں نوجوانوں کو اپنی طرف کھینچنے کے لئے مختلف قسم کی رعایتیں دیتے ہیں اور ایسا دلکشی کا راستہ استعمال کرتے ہیں کہ ایک بار اگر کوئی اس میں پھنس گیا تو پھر اس کا سلسلہ اکثر و بیشتر تباہی پر ختم ہوتا ہے ۔ عارضی خوشی اور لذت کے لئے اس میں پھنسنے والے نوجوان دائمی ذہنی کشیدگی اور الجھاو کے ساتھ جینے پر مجبور ہو جاتا ہے اور نفسیاتی طور پر اس قدر مجبور ہو جاتا ہے کہ وہ یا تو جرائم پیشہ بن جاتا ہے یا پھر خود کشی میں ہی اپنی نجات مان لیتا ہے ۔ اس طرح کے ایپس کی وجہ سے اپنی تباہی کا سامان خود ہی تیار کرنے والے نوجوانوں میں زیادہ تر کی عمر 35 سال سے کم ہوتی ہے اور اپنی زندگی کو مستحکم کرنے کی عمر میں بربادی کے غار میں چلے جاتے ہیں ۔ 
    
آخر اس کا علاج کیا ہے ؟  سماجی زندگی کی تعمیر پر نظر رکھنے والے ماہرین کہتے ہیں کہ ہماری موجودہ نسل کو اس وبا اور نشے سے باز رکھنے اور آنے والی نسل کو اس مہلک مرض سے محفوظ رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ اس طرح کے ڈیٹنگ اور بیٹنگ ایپس کے ضرر اور نقصان کے تعلق سے اسکولوں اور کالجوں کی سطح پر بیداری کا پروگرام وضع کرنا اورعملاً اس کو روبہ عمل لانا ضروری ہے ۔ اس کی ساتھ والدین کو چاہیے کہ اپنے اور اپنے بچوں کے فون میں اس طرح کے ایپس کو بلاک کرکے رکھیں اور ایسی تدابیر کریں کہ آسانی سے ایسے ایپس تک بچوں کی رسائی نہ ہونے پائے ۔ بچوں کے انٹرنیٹ اور موبائل فون کے استعمال پر نظر رکھنے کا اور نگرانی کا کام وقتاً فوقتاً ہوتا رہے ۔ 
    
سب سے اہم اور بنیادی اقدام یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حکومت اس طرح کے تمام ایپس پر پوری طرح پابندی لگا دے ۔ مگر مشکل یہ ہے کہ عملاً اس طرح کے اقدامات برائے نام ہی ہوتے ہیں اور حکومت پوری طرح اس کو کنٹرول کرنے کے سلسلے میں سنجیدہ نظر نہیں آتی ۔  اس کے علاوہ جو نوجوان ایسے ایپس کے عادی ہو چکے ہیں انہیں صلاح و مشورہ دینے اور ان کی رہنمائی کرتے ہوئے اس تباہ کن جال سے باہر نکلنے میں سہارا دینے کے  مراکز قائم ہوں ۔ ورنہ آنے والے دنوں میں پوری نوجوان نسل کو یہ طوفان بہا لے جائے گا اور یہ ہماری سماجی زندگی کا المناک دور ہوگا ۔ 


Share: