ممبئی ، 18/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی)جون کے تیسرے ہفتے میں بھی مانسون ملک کے بڑے حصے تک نہیں پہنچ سکا ہے۔۱۷؍جون کی صبح لی گئی سیٹیلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہاراشٹر، گجرات، مدھیہ پردیش، راجستھان اور کرناٹک کے اوپر مانسونی بادل موجود نہیں ہیں اور ان ریاستوں میں آسمان صاف دکھائی دے رہا ہے۔
محکمۂ موسمیات کے مطابق ملک کے۷۲۳؍ اضلاع میں سے صرف۱۰۳؍ اضلاع میں معمول کے مطابق بارش ہوئی ہےجبکہ ملک کے تقریباً۴۰؍ فیصد حصہ میں اب تک معمول سے کم بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ خلیج بنگال میں مضبوط کم دباؤ کے نظام (لو پریشر ایریا) کا تشکیل نہ پانا بتایا جا رہا ہے۔ ۴؍جون کو کیرالا پہنچنے کے بعد مانسون۱۳؍ دن میں۱۹؍ ریاستوں تک پہنچ چکا ہے، لیکن گزشتہ ۷؍دنوں سے یہ تلنگانہ کے بھدراچلم علاقے میں رکا ہوا ہے۔ اس کی وجہ سے چھتیس گڑھ، مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش میں بارش میں تاخیر ہو رہی ہے۔ البتہ بیشتر علاقوں میں مانسون سے پہلے کی موسمی سرگرمیوں اور مقامی موسمی نظاموں کی وجہ سے عوام کو گرمی سے بڑی حد تک راحت مل گئی ہے۔
۱۸؍ جون کو بہار، جھارکھنڈ، اڈیشہ، مغربی بنگال اور سکم میں بارش کا امکان ہے، جبکہ بہار کے بعض علاقوں میں۵۰؍ سے۷۰؍کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چل سکتی ہیں۔ آسام، میگھالیہ، اروناچل پردیش، تمل ناڈو، پڈوچیری اور کرناٹک کے بعض حصوں میں شدید بارش ہوسکتی ہے۔ راجستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور ودربھ میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور تیز ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔
۱۹؍ جون کو سکم، شمالی بنگال، آسام اور میگھالیہ میں شدید بارش ہو سکتی ہے۔ راجستھان اور مدھیہ پردیش میں بارش کے ساتھ تیز ہوائیں چلنےکا امکان ہے۔جھارکھنڈ، اڈیشہ اور مغربی بنگال میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی امید ہے۔ تمل ناڈو، پڈوچیری، کرناٹک اور مہاراشٹر کے بعض علاقوں میں بھی بارش ہوسکتی ہے۔