ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ہلدوانی میں کھڑگے کی تقریر کے دو روز بعد رام لیلا میدان کا ’شدھی کرن' راجیہ سبھا میں بی جے پی کا موقف الگ اور باہر الگ

ہلدوانی میں کھڑگے کی تقریر کے دو روز بعد رام لیلا میدان کا ’شدھی کرن' راجیہ سبھا میں بی جے پی کا موقف الگ اور باہر الگ

Thu, 13 Aug 2026 17:18:57    S O News

ہلدوانی، 13 اگست (ایس او نیوز): کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھرگے کی جانب سے اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں عوامی جلسے سے خطاب کے دو روز بعد اسی مقام پر ’شدھی کرن‘ کے نام پر ہون اور گنگاجل چھڑکنے کا معاملہ سیاسی تنازع کا باعث بن گیا ہے۔ کانگریس نے اسے کھرگے کے دلت ہونے کی وجہ سے ذات پات پر مبنی امتیاز قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی ہے۔

ملکارجن کھرگے نے 8 اگست کو ہلدوانی کے رام لیلا میدان میں کانگریس کی ’وجے شنکھ ناد‘ ریلی سے خطاب کیا تھا۔ اس جلسے میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ اس کے دو دن بعد، 10 اگست کو شری رام سینا دھرمارتھ سیوا نیاس نامی تنظیم کے ارکان اسی میدان میں پہنچے اور وہاں ہون کیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس دوران منتروں کا جاپ اور شنکھ ناد کیا گیا، جبکہ ہون کے بعد پانی چھڑکا گیا اور شرکاء کے ماتھے پر تلک بھی لگایا گیا۔

کانگریس نے اس کارروائی کو ’شدھی کرن‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ کھرگے کے جلسے کے بعد ان کے استعمال کردہ اسٹیج کو اس لیے پاک کیا گیا کیونکہ وہ دلت برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ کانگریس کے ریاستی صدر گنیش گوڈیال نے اسے ذات پات پر مبنی ذہنیت اور دلت مخالف رویے کی عکاسی قرار دیا اور پولیس سے کارروائی کا مطالبہ کیا۔

کھرگے نے راجیہ سبھا میں معاملہ اٹھایا:
13 اگست کو کھرگے نے راجیہ سبھا میں یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی تقریر میں کسی مخصوص برادری یا مذہب کا نام نہیں لیا تھا بلکہ عوامی مسائل پر بات کی تھی۔ ان کے مطابق، ان کی تقریر کے بعد بی جے پی سے وابستہ افراد نے اسٹیج کا ’شدھی کرن‘ کیا۔

کھرگے نے کہا کہ وہ خود کو دلت یا درج فہرست ذات سے تعلق رکھنے کی بنیاد پر کسی سے تحفظ یا مدد کا مطالبہ نہیں کرتے اور ان میں مقابلہ کرنے کی طاقت ہے، لیکن ہلدوانی کے واقعے نے انہیں ’اچھوت‘ سمجھے جانے کا احساس دلایا اور انہیں ذلت محسوس ہوئی۔ انہوں نے ذمہ دار افراد کے خلاف انسدادِ چھوا چھوت کے قانون کے تحت مقدمہ درج کرنے اور گرفتاری کا مطالبہ بھی کیا۔

بی جے پی نے کارروائی سے خود کو الگ کیا:
بی جے پی نے  ’شدھی کرن‘ کارروائی سے خود کو الگ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی ایسی سرگرمیوں کی حمایت نہیں کرتی۔ راجیہ سبھا میں قائد ایوان اور مرکزی وزیر جے پی نڈا نے کھرگے کی جانب سے معاملہ اٹھائے جانے پر کہا کہ یہ صرف کانگریس ہی نہیں بلکہ سب کے لیے تشویش کا معاملہ ہے اور واقعے کی تحقیقات کرائی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ایسی سرگرمیوں کی حمایت یا تائید نہیں کرتی۔

راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے بھی مبینہ واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ چھوا چھوت کو سیاسی وابستگی یا نظریے سے قطع نظر مسترد کیا جانا چاہیے اور اگر الزام درست ثابت ہوتا ہے تو ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔

بی جے پی کا دوسرا مؤقف:
اس دوران بی جے پی کے آئی ٹی سیل کے سربراہ امیت مالویہ نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کانگریس کے مؤقف کو چیلنج کیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ کانگریس کے جلسے کے اسٹیج سے ’اللہ اکبر‘ کے نعرے لگائے گئے تھے اور اسی وجہ سے مقام کے ٹرسٹی اور متعلقہ افراد نے ہون کے ذریعے شدھیکرن کیا۔ مالویہ نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ معاملے کو ذات پات کا رنگ دے کر معاشرے کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔


Share: