نئی دہلی، 6/ اپریل (ایس او نیوز /ایجنسی) سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ کسی بھی ملزم کو بغیر ٹرائل طویل مدت تک جیل میں رکھنا آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے قتل کے ایک مقدمے میں چار سال سے زائد عرصہ سے قید ملزم کو ضمانت دیتے ہوئے کہا کہ تیز رفتار اور منصفانہ سماعت ہر شہری کا بنیادی حق ہے، جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
یہ فیصلہ جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس وجے بشنوئی پر مشتمل بنچ نے ساحل منوج مچارے کی اسپیشل لیو پٹیشن پر سنایا۔ ملزم نے بامبے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا، جس میں اس کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔ یہ مقدمہ مہاراشٹر کے کولہاپور ضلع کے شاہ پور تھانے میں درج ہے۔
عدالت نے سماعت کے دوران اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ ملزم یکم نومبر 2022 سے عدالتی حراست میں ہے۔ اگرچہ ٹرائل کورٹ نے 2024 میں فردِ جرم عائد کر دی تھی لیکن اس کے باوجود اب تک ایک بھی گواہ کا بیان ریکارڈ نہیں کیا جا سکا۔ عدالت نے کہا کہ مقدمے میں اس طرح کی تاخیر انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔
بنچ نے اپنے مشاہدے میں کہا کہ جب کسی ملزم کو بغیر پیش رفت کے طویل عرصہ تک قید رکھا جائے تو یہ آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت دیے گئے تیز رفتار سماعت کے حق کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایسے حالات میں ضمانت دینا ناگزیر ہو جاتا ہے۔
عدالت نے مزید کہا کہ اگرچہ ملزم پر قتل جیسا سنگین الزام عائد ہے لیکن یہ اصول طے شدہ ہے کہ جرم کی سنگینی کے باوجود اگر سماعت میں غیر ضروری تاخیر ہو رہی ہو تو عدالت کو ضمانت پر غور کرنا چاہیے۔ چار سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود مقدمے میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہ ہونا ایک سنگین معاملہ ہے۔
ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد سپریم کورٹ نے بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزم کو فوری طور پر ضمانت دینے کا حکم دیا۔ عدالت نے ہدایت دی کہ ٹرائل کورٹ مناسب شرائط طے کرے اور اگر ملزم کسی دیگر مقدمے میں مطلوب نہ ہو تو اسے رہا کیا جائے۔
یہ مقدمہ تعزیراتِ ہند کی دفعہ 302 اور 34 کے تحت درج کیا گیا تھا۔ استغاثہ کے مطابق کولہا پور کے تارڈال گاؤں میں ایک خاندانی تقریب کے دوران ایک شخص پر تیز دھار ہتھیار سے حملہ کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں اس کی موت ہو گئی تھی۔ ایک عینی شاہد نے شریک ملزم کی شناخت ساحل منوج مچارے کے طور پر کی تھی۔
ہائی کورٹ میں ملزم نے موقف اختیار کیا تھا کہ اس کا نام ابتدائی رپورٹ میں شامل نہیں تھا اور نہ ہی اس کے قبضے سے کوئی ہتھیار برآمد ہوا، جبکہ مقدمہ حالات و شواہد پر مبنی ہے۔ اس کے باوجود مارچ 2026 میں ہائی کورٹ نے اس کی ضمانت مسترد کر دی تھی۔