بنگلورو، 29/اکتوبر (ایس او نیوز/ایجنسی) وزیر برائے صحت، اقلیتی بہبود، اوقاف اور حج یو ٹی قادر نے واضح کیا ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں علاج کے لیے آنے والے کسی بھی مریض کو ادویات کی عدم دستیابی کے باعث باہر سے دوائیں خریدنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ ادویات کی بروقت خریداری، مناسب ذخیرہ اندوزی، معیار کی جانچ اور اسپتالوں تک ان کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
کرناٹک اسٹیٹ میڈیکل سپلائیز کارپوریشن لمیٹڈ (KSMSCL) کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ ایک اجلاس میں وزیر نے ادویات اور طبی آلات کی خریداری، گوداموں میں دستیاب ذخیرے اور ضلعی و تعلقہ سطح کے سرکاری اسپتالوں تک سپلائی کے نظام کا تفصیلی جائزہ لیا۔
یو ٹی قادر نے افسران کو ہدایت دی کہ ادویات کی خریداری کا عمل مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے اور کسی دوا کی قلت پیدا ہونے سے پہلے ہی اس کا مناسب ذخیرہ تیار رکھا جائے، تاکہ مریضوں کے علاج میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہر دوا کے معیار کی جانچ لازمی طور پر کی جائے۔ اس کے علاوہ گوداموں سے اسپتالوں تک ادویات کی ترسیل کے پورے عمل کو ڈیجیٹل نظام کے ذریعے ٹریک کیا جائے، تاکہ سپلائی کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جاسکے اور کسی بھی تاخیر کی فوری نشاندہی ہو۔
وزیر نے خبردار کیا کہ ادویات کی فراہمی میں تاخیر یا غفلت پائی گئی تو متعلقہ افسران کو جواب دہ ٹھہرایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری طبی خدمات سے استفادہ کرنے والے مریضوں کو ضروری ادویات وقت پر فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
یو ٹی قادر نے کہا کہ حکومت کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ہر مریض تک صحیح دوا، صحیح وقت پر پہنچے اور ادویات کی عدم دستیابی کی وجہ سے کسی کو اضافی مالی بوجھ یا علاج میں دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔