نئی دہلی ، 8؍نومبر (ایس اونیوز؍آئی این ایس انڈیا )8 نومبر 2016 کی شام وزیر اعظم نریندر مودی نے اچانک ٹی وی پر آکر نوٹ بندی کا اعلان کیا تھا۔500 اور 1000 روپے کے نوٹ کو چلن سے باہرکیے جانے کے بعد نوٹوں کی قلت بڑھی اور لوگوں کو بینک اور اے ٹی ایم کے باہر لمبی قطار میں لگنا پڑا۔حکومت نے نوٹ بندی کے بہت سے فوائد گنائے، لیکن اسے اس فیصلے کے لئے کافی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔اپوزیشن اور بہت سے ماہرین نے کام میں کمی، جی ڈی پی میں کمی اور چھوٹے صنعتوں پر برے اثر کے لئے پی ایم کے فیصلے کو ذمہ دار ٹھہرایا لیکن ایک سال بعد بھی نوٹ بندی کے ناقدین سے زیادہ تعداد اس کی حمایت میں کھڑے ہونے والوں کی ہے۔سروے کے مطابق نوٹ بندی کے معاملے پر اب بھی اکثریت مودی کے ساتھ ہے۔مجموعی طور پر آپ نوٹ بندی کو کس طرح دیکھتے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں 38فیصد لوگوں نے اس قدم کو کامیاب بتایا تو 30فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ اس کا نتیجہ ملا جلا رہا۔صرف 32 فیصد لوگوں نے اسے ناکام بتایا۔سروے میں 10ہزار سے زیادہ لوگوں نے حصہ لیا۔صرف 26 فیصد لوگ مانتے ہیں کہ نوٹ بندی سے معیشت کو طویل مدتی نقصان ہوا ہے۔ 32 فیصد لوگوں نے کہا کہ اس سے معیشت کی شفافیت میں اضافہ ہوا ہے جبکہ 42 فیصد لوگوں نے کہا کہ اس نے معیشت کو شفاف تو بنایا ہے لیکن نقصان بھی ہواہے۔