عمان16اکتوبر(ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا)دیگر شعبوں میں ریسلنگ کے میدان میں بھی عرب دنیا آگے بڑھ رہی ہے۔ اس کی تازہ مثال اردن کی شادیہ بسیسو کا عالمی فری ریسلنگ کمپنی کے ساتھ تازہ معاہدہ ہے۔ اس معاہدے کے بعد وہ فری عالمی ریسلنگ مقابلوں میں حصہ لینے والی پہلی عرب خاتون بن گئی ہیں۔ ’WWE‘ کے ساتھ معاہدے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے شادیہ بسیسو نے کہا کہ "میرے لیے یہ غیرمعمولی اعزاز کی بات ہے کہ پورے مشرق وسطیٰ سے میں واحد خاتون ریسلر منتخب ہوئی ہوں۔ میرے لیے عالمی فری ریسلنگ کمپنی کے ساتھ کام واقعی حیرت انگیز ہوگا۔"ان کا مزید کہنا تھا کہ "میں نے کمپنی کے زیراہتمام اورلانڈ میں قائم تربیتی مراکز کا بھی دورہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ میں ’Mae Young Calssic‘ ریسلنگ چیمپیئن شپ میں بھی موجود تھی۔ میں نے ذاتی تو طور پر کمپنی کی ریسلنگ میں پیشہ وارنہ مہارت اور دلچسپی کو دیکھا ہے۔ میں بے تابی کے ساتھ ریلسنگ کی دنیا کی ’ہیروئن‘ بننے کا خواب دیکھ رہی ہوں‘۔شادیہ بسیسو برازیل مین ہونے والے Jujutsu مقابلوں میں بھی حصہ لے چکی ہیں۔ Crossfit کھیلوں کے مقابلوں کی دلدادہ بسیسو رواں سال دبئی میں ’WWE‘ کے تجرباتی مقابلوں میں شامل ہوئیں۔ کمپنی کی جانب سے دبئی میں تجرباتی مقابلوں کے لیے مخصوص افراد کو دعوت دی تھی۔ مشرق وسطیٰ اور بھارت سمیت مختلف ممالک کے کل 40 مردو خواتین نے اس میں شرکت کی۔ ان لوگوں تعلق کا مختلف کھیلوں کے پس منظر سے تعلق تھا، ان میں فن قتال کے ماہرین، ویٹ لفٹر،فٹ بال، ریسلر اور دیگر جسمانی صلاحیتوں کے ماہرین شامل تھے۔خیال رہے کہ ریسلنگ کی دنیا میں طبع آزمائی کی خواہاں 30 سالہ شادی بسیسو اردن میں پیدا ہوئیں مگر انہوں نے سنہ 2007ء میں بیروت میں قائم امریکن یونیورسٹی کے کامرس کالج سے مارکیٹنگ کے شعبے میں ڈگری لی تھی۔اس کا کہنا ہے کہ بسا اوقات ہمیں ریسلنگ کے مقابلوں کے دوران خوف بھی محسوس ہوتا ہے مگر وہ پوری طرح اس میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لیے پرعزم ہیں۔