تہران / واشنگٹن / ریاض 8/مئی (ایس او نیوز/ایجنسی): آبنائے ہرمز میں ایرانی اور امریکی افواج کے درمیان تازہ جھڑپوں کے بعد خلیجی خطہ ایک بار پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔ گزشتہ بارہ گھنٹوں کے دوران سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز میں موجود امریکی بحری بیڑے کے تین جنگی جہازوں، جن میں امریکی ڈسٹرائر بھی شامل ہیں، پر میزائلوں، ڈرونز اور تیز رفتار کشتیوں کے ذریعے حملے کیے، جس کے بعد امریکہ کی جانب سے ایرانی فوجی تنصیبات پر جوابی کارروائی کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ نے اس تعلق سے امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے حوالے سے لکھا ہے کہ ایرانی حملوں کو امریکی بحریہ نے ناکام بنا دیا اور کوئی امریکی جنگی جہاز براہِ راست نشانہ نہیں بنا، تاہم امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ حملوں کے جواب میں ایران کے متعدد میزائل لانچنگ مراکز، ڈرون بیسز اور کمانڈ سینٹرز کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی میڈیا اور ایجنسی رپورٹس کے مطابق امریکی کارروائیوں میں قشم جزیرہ اور بندر عباس کے اطراف دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ ایرانی بحریہ اور پاسدارانِ انقلاب نے امریکی جنگی جہازوں کو بھاری نقصان پہنچایا ہےاور انہیں پسپا ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق اس تازہ بحری تصادم میں کسی امریکی فوجی یا ایرانی اہلکار کی ہلاکت کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی ہے، تاہم بعض امریکی ذرائع نے ایرانی حملوں میں متعدد ڈرونز اور کشتیوں کے تباہ کیے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس سے قبل ایران جنگ کے دوران سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر حملوں میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں اور زخمی ہونے کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایرانی حملوں کے بعد ہمیشہ کی طرح ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکی جہاز محفوظ ہیں اور ایران کو سخت جواب دیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے ایران کو متنبہ کیا کہ اگر حملے جاری رہے تو امریکہ کی آئندہ کارروائی زیادہ سخت ہوگی۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنگ بندی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی اور سفارتی راستہ اب بھی کھلا ہے۔
رائٹرس کی رپورٹ کے مطابق ادھر ایران نے امریکہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی افواج نے ایرانی آئل ٹینکر اور ساحلی علاقوں کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں ایرانی فوج نے آبنائے ہرمز میں کارروائی کی۔ ایرانی عسکری قیادت نے دعویٰ کیا کہ امریکہ خلیج میں اپنی عسکری موجودگی بڑھا کر صورتحال کو مزید خراب کر رہا ہے۔
خلیجی سفارتی حلقوں میں سب سے اہم پیش رفت سعودی عرب کے موقف کو قرار دیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی عرب نے امریکہ کو ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے اپنی سرزمین اور فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ ریاض کو خدشہ ہے کہ براہِ راست امریکی عسکری اتحاد میں شامل ہونے کی صورت میں ایران سعودی تنصیبات اور تیل کے مراکز کو دوبارہ نشانہ بنا سکتا ہے۔
اسی دوران چین اور روس نے بھی امریکہ کے مؤقف پر سخت اعتراضات اٹھائے ہیں۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف پیش کی گئی قرارداد پر چین اور روس نے ویٹو کی دھمکی دی ہے۔ دونوں ممالک کا کہنا ہے کہ امریکہ یکطرفہ انداز میں ایران پر دباؤ ڈال رہا ہے جبکہ خود بھی فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ روسی اور چینی سفارت کاروں نے زور دیا ہے کہ بحران کا حل فوجی نہیں بلکہ سفارتی ہونا چاہیے۔
اسوسی ایٹیڈ پریس یعنی اے پی کی رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز کی صورتحال بدستور انتہائی کشیدہ ہے۔ ایران نے نہ صرف آبنائے ہرمز میں اپنی عسکری موجودگی بڑھا دی ہے بلکہ جہازوں کی نگرانی اور ٹیکس وصولی کے لیے نیا ادارہ قائم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے، جسے امریکہ اور مغربی ممالک نے بین الاقوامی بحری قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق اس بحران کے معاشی اثرات بھی فوری طور پر سامنے آنے لگے ہیں۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جبکہ متعدد بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں آبنائے ہرمز کے راستے جہاز بھیجنے سے گریز کر رہی ہیں۔ برینٹ کروڈ کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی توانائی بحران شدت اختیار کر سکتا ہے، خصوصاً خلیجی ممالک کی برآمدات متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔
خلیجی ممالک میں بھی شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت اور قطر نے اپنے فضائی دفاعی نظام کو ہائی الرٹ پر رکھا ہے جبکہ متعدد امریکی اور مغربی سفارتی مشنز نے اپنے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
تازہ بحری جھڑپوں کے بعد سفارتی کوششیں بھی تیز ہو گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان، فرانس اور بعض خلیجی ممالک امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی مفاہمت کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم موجودہ صورتحال میں فوری جنگ بندی کے امکانات انتہائی کم دکھائی دے رہے ہیں۔