تہران، 6/ اپریل (ایس او نیوز /ایجنسی) ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جہاں ایرانی بحریہ کی سرگرم نگرانی اور امریکی بحری نقل و حرکت کے باعث حالات مزید نازک ہو گئے ہیں۔ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی جنگی جہازوں نے جب آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کی کوشش کی تو ایرانی بحریہ نے انہیں خبردار کرنے کے لیے فائرنگ کی۔ اس کے ساتھ ہی ایران نے الزام عائد کیا کہ امریکہ نے اس کی شہری کشتیوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں پانچ شہری ہلاک ہو گئے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات میں شامل اہم شخصیت محمد باقر قالیباف نے سخت لہجے میں کہا کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود ایران نے ابھی تک اپنی مکمل طاقت کا استعمال نہیں کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی کارروائیاں خطے میں جہازرانی کے لیے خطرہ بن رہی ہیں لیکن ایران اس صورتحال سے بخوبی واقف ہے اور مناسب وقت پر مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دوسری جانب امریکہ نے ایرانی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا وہ ایران کی پاسداران انقلاب سے وابستہ تھیں۔ امریکی حکام کے مطابق ان کشتیوں کی سرگرمیاں مشتبہ تھیں اور وہ خطے میں امریکی مفادات کے لیے خطرہ بن سکتی تھیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ بریڈ کوپر نے بتایا کہ ایرانی فورسز نے امریکی نگرانی میں موجود جہازوں پر کروز میزائل، ڈرون اور چھوٹی کشتیوں کے ذریعے حملے کی کوشش کی، جسے بروقت ناکام بنایا گیا۔
کوپر کے مطابق امریکی افواج نے چھ ایرانی کشتیوں کو تباہ کیا اور متعدد میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں ہی روک دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی بحری جہازوں کو محفوظ رکھنے کے لیے اپاچی اور ایم ایچ ساٹھ سی ہاک ہیلی کاپٹروں کا استعمال کیا گیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق یو ایس ایس ٹرکسٹن اور یو ایس ایس میسن نامی جنگی جہازوں نے شدید خطرات کے باوجود آبنائے ہرمز عبور کر کے خلیجی پانیوں میں داخل ہونے میں کامیابی حاصل کی۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے امریکی دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے اس دوران کوئی تجارتی جہاز یا تیل بردار ٹینکر نہیں گزرا۔ ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ خطے میں کشیدگی کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے تاکہ اپنی عسکری موجودگی کو جواز فراہم کر سکے۔
یہ کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی تھی جب 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے دارالحکومت تہران سمیت کئی شہروں پر مشترکہ حملے کیے تھے۔ اس کے بعد ایران نے امریکہ اور اسرائیل سے منسلک سمندری راستوں پر پابندیاں عائد کر دی تھیں، جس کے اثرات اب بھی جاری ہیں۔
ادھر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران کی حالیہ کارروائیاں بڑے پیمانے کی نہیں تھیں اور انہیں جنگ بندی کی خلاف ورزی نہیں کہا جا سکتا۔ تاہم ماہرین کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیاں کسی بڑے تصادم کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں۔