بنگلورو، 6/ اپریل (ایس او نیوز /ایجنسی)کرناٹک کے گورنر تھاور چند گہلوٹ نے کہا ہے کہ ہومیوپیتھی تیزی سے ایک قابلِ اعتماد اور وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والا طبی نظام بنتا جا رہا ہے، جس سے ملک بھر میں بڑی تعداد میں لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جدید دور میں طرزِ زندگی سے متعلق بیماریوں، ذہنی دباؤ اور دیرینہ امراض کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیش نظر ہومیوپیتھی ایک مؤثر، متوازن اور ہمہ گیر علاج فراہم کرتی ہے۔
وہ منگل کے روز ہومیوپیتھی فاؤنڈیشن اور راجیو گاندھی یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے اشتراک سے منعقدہ عالمی یومِ ہومیوپیتھی کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ ہند کا وزارتِ آیوش اس شعبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
گورنر نے کہا کہ ہومیوپیتھی صرف بیماری کے علاج تک محدود نہیں بلکہ انسان کے جسم، ذہن اور روح کے توازن پر بھی توجہ دیتی ہے۔ انہوں نے عظیم معالج ڈاکٹر سیموئیل ہانیمن کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے نظریات آج بھی دنیا بھر میں رہنمائی فراہم کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہومیوپیتھی کی ادویات جسم کی قدرتی مدافعتی قوت کو متحرک کر کے خود علاج کی صلاحیت کو بڑھاتی ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ یہ طریقہ علاج پائیدار صحت کے حصول میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔ اس سال کا مرکزی موضوع “پائیدار صحت کے لیے ہومیوپیتھی” کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا گیا۔
گورنر نے ہومیوپیتھی کے میدان میں تحقیق، ڈیجیٹل ہیلتھ اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ عالمی سطح پر اس کی ساکھ مزید مستحکم ہو سکے۔ انہوں نے ہومیوپیتھی کے طلبہ کو اس شعبے کا مستقبل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ روایتی علم کو جدید سائنس کے ساتھ جوڑ کر اس نظام کو عالمی سطح پر مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔
راجیو گاندھی یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر بی سی بھگوان نے کہا کہ ہومیوپیتھی بیماری کی جڑ تک پہنچ کر علاج فراہم کرتی ہے اور اسے مرکزی صحتی نظام کے ساتھ مزید مضبوطی سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔
کرناٹک ہومیوپیتھی بورڈ کے صدر ڈاکٹر بی ٹی رودریش نے کہا کہ موجودہ دور میں کئی بیماریوں کی بنیادی وجہ ذہنی و سماجی عوامل ہیں، اور ہومیوپیتھی ان پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے علاج فراہم کرتی ہے۔
جئے نگر کے رکن اسمبلی سی کے رام مورتی نے کہا کہ ہومیوپیتھی پر عوام کا اعتماد برقرار ہے اور معالجین کو چاہیے کہ وہ مریضوں کے ساتھ ہمدردی اور خلوص سے پیش آئیں۔
اس موقع پر محکمہ طبی تعلیمات کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری محمد محسن نے بھی خطاب کیا۔ تقریب میں اسیسمنٹ رجسٹرار ڈاکٹر ریاض باشا ایس، رجسٹرار ارجن اوڈیار، مالیاتی افسر بی کے گنگادھر سمیت دیگر عہدیداران موجود تھے۔ پروگرام میں اساتذہ، طلبہ اور ڈاکٹروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ہومیوپیتھی ایک کم خرچ، آسان اور انسان دوست طریقہ علاج کے طور پر مستقبل میں مزید اہمیت اختیار کرے گی۔تقریب میں اعلیٰ حکام، ماہرینِ طب، اساتذہ اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔