منگلورو، 8 / مئی (ایس او نیوز) منگلورو کے مضافات میں مالور- کینجار میں بہنے والی پھالگونی ندی میں آلودگی کی وجہ سے بڑے پیمانے پر مچھلیاں ہلاک ہوگئیں جس پر مقامی باشندوں میں تشویش اورغم و غصہ کا اظہار پایا جارہا ہے ۔
پھالگونی ندی کے کئی حصوں میں مردہ مچھلیاں تیرتی نظر آنے کے بعد مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کبھی پوری روانی سے بہنے والی یہ ندی اب 'آبی حیاتیات کے قبرستان' میں تبدیل ہوگئی ہے اور اس ماحولیاتی بحران کے لیے صنعتی اداروں کی طرف سے زہریلے فضلہ کے اخراج اور شہری اداروں کی لاپروائی ذمہ دار ہے۔
رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ندی کا پانی حال ہی میں کالا ہو گیا تھا اور منگل کی رات تک یہ آلودگی مبینہ طور پر اتنی زہریلی ہو گئی کہ بڑی تعداد میں مچھلیوں اور دیگر آبی جانداروں کی ہلاکت کا سبب بن سکتی ہے۔
مقامی لوگوں نے الزام لگایا کہ قریبی صنعتی اداروں سے نکلنے والا غیر مصفیٰ اور زہریلا فضلہ دریا کو آلودہ کر رہا ہے اور ارد گرد کے ماحول کو بری طرح متاثر کر رہا ہے ۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ مسئلہ برسوں سے برقرار ہے لیکن حکام اور عوامی نمائندوں کو بارہا شکایات کے باوجود کوئی مستقل کارروائی نہیں کی جاتی ۔
مقامی رہائشی روپا نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نہ صرف ندی بلکہ ہمارے گھریلو کنوؤں کا پانی بھی آلودہ ہو چکا ہے ۔ ہمارے مسائل کو کوئی نہیں سن رہاہے ۔ اب یہ معاملہ صرف مالور تک محدود نہیں ہے ۔ بجپے پنچایت حدود کے تحت پانی کے متعدد ذرائع کو مبینہ طور پر آلودگی سے متعلق اسی طرح کے مسائل کا سامنا ہے ۔
مسلسل بے عملی پر مایوس ہو کر گرام پنچایت نے اب انتباہ دیا ہے کہ اگر فوری اصلاحی اقدامات نہیں کیے گئے تو وہ عوامی احتجاج شروع کرے گی ۔
ندی کے پانی میں بڑی مقدار میں مردہ مچھلیاں ملنے کا معاملہ سامنے آنے کے فوراً بعد کرناٹک ریاستی آلودگی کنٹرول بورڈ کے نائب ماحولیاتی افسر ڈاکٹر مہیشوری سنگھ نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور معائنہ کیا ۔
افسران کو شبہ ہے کہ پچناڈی سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ (STP) سے بغیر ٹریٹ شدہ گندے پانی کو شاید براہ راست دریا میں چھوڑا جا رہا ہے ۔
آلودگی کی صحیح وجہ کا تعین کرنے کے لیے لیبارٹری تجزیہ کے لیے دریا اور قریبی کنویں سے پانی کے نمونے جمع کیے ہیں ۔
اس واقعے نے ایک بار پھر ترقی کے نام پر ماحولیاتی انحطاط کے بارے میں سنگین خدشات کو جنم دیا ہے ۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ بے لگام صنعتی سرگرمیاں اور بلدی اداروں کے افسران کی مبینہ لاپروائی نے اس علاقے کی 'لائف لائن' سمجھی جانے والی پھالگنی ندی کو خطرناک حالت میں دھکیل دیا ہے ۔
کیا ندی کی سطح پر تیرتی ہوئی مردہ مچھلیوں کا چونکا دینے والا نظارہ آخر کار حکام کو کارروائی پر آمادہ کرے گا، یا پھر رہائشیوں کی تکلیف اور تشویش اسی طرح برقرار رہے گی، یہ دیکھنا باقی ہے ۔