نئی دہلی،23؍ اکتوبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )سپریم کورٹ نے آج گجرات حکومت کو ہدایت دی کہ بلقیس بانو اجتماعی عصمت دری معاملے میں قصوروار ٹھہرائے گئے پولیس افسران کے خلاف کی گئی محکمہ جاتی کارروائی سے اسے چار ہفتوں کے اندر علی الفور مطلع کرے ۔ اس صورت میں عدالت نے ان پولیس افسران کے خلاف جرم کو برقرار رکھی ہے ۔ چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اے ایم کھانولکر ، جسٹس دھننجے وائی چندرچوڑ کی تین رکنی بنچ نے اس ہدایات کے ساتھ ہی 2002 کے گجرات فسادات کے دوران اجتماعی عصمت دری کی متاثرہ کو پہلے دیئے جا چکے معاوضے کی رقم میں اضافہ کیلئے نئی اپیل دائر کرنے کی بھی اجازت دی تھی ۔ اجتماعی عصمت دری کی متاثرہ نے معاوضے کی رقم میں مناسب اضافہ کے ساتھ ہی مجرم پولیس افسران کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کی درخواست کی ہے ۔عدالت نے اس معاملے میں مجرم پولیس افسران کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کے بارے میں چار ہفتہ کے اندر اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔عدالت نے اس کے علاوہ عصمت دری متاثرہ کے وکلاء کو معاوضے کی رقم کے معاملے پر ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کرنے کے لئے مختلف سے اپیل دائر کرنے کی اجازت فراہم کی تھی ۔ بمبئی ہائی کورٹ نے چار مئی کو اپنے فیصلے میں اجتماعی عصمت دری کے اس معاملے میں 12 قصورواروں کی عمر قید کی سزا برقرار رکھی تھی جب کہ کورٹ نے پولیس اہلکاروں اور ڈاکٹر سمیت سات افراد کو بری کرنے کا نچلی عدالت کے حکم کو منسوخ کر دیا تھا ۔گودھرا ٹرین آتشزدگی کے واقعہ کے بعد گجرات میں واقع فرقہ وارانہ تشدد کے دوران مارچ 2002 میں حاملہ بلقیس بانو کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کا واقعہ پیش آیا تھا ۔ اس تشدد میں اس کے خاندان کے سات افراد کو قتل کردیا گیا تھا اور خاندان کے چھ دیگر فرد اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوگئے تھے ۔ کورٹ نے پانچ پولیس اہلکاروں اور دو ڈاکٹروں کو اپنی ذمہ داری ادا نہ کرنے اور ثبوتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کا مجرم ٹھہرایا تھا ۔ مجرم قرار دیئے گئے پولیس اہلکار نرپت سنگھ، ادریس سید، بیکا بھائی پٹیل، رام سنگھ بھابھور، سوم بھائی گوری اور ڈاکٹر میں ارون کمار پرساد اور سنگیتاکمار پرساد شامل ہیں۔خصوصی عدالت نے 21 جنوری 2008 کو اس معاملے میں 11 ملزمان کو مجرم ٹھہراتے ہوئے انہیں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔