تہران/واشنگٹن، 10/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی )امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا ہے، امریکا نے منگل کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کردی۔ دوسری جانب ایران کا دعویٰ ہے کہ اس نے امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا نہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اس واقعے کو ایران پر حملے کے بہانے کے طور پراستعمال کر رہا ہے۔ فی الحال دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے اور امن مذاکرات کے امکانات پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
امریکی فوج نے ایران کے خلاف اپنی جوابی فوجی کارروائی مکمل کر لی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈنے کہا کہ یہ آپریشن خود دفاعی آپریشن تھا، جو 9 جون کو صدر کے حکم پر کیا گیا۔ ایک روز قبل امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا گیا تھا۔ امریکی سینٹرل کمانڈکے مطابق، امریکی فضائیہ اور بحریہ کے لڑاکا طیاروں نے درست ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی فضائی دفاعی نظام، زمینی کنٹرول اسٹیشنس اور نگرانی کے ریڈار سائٹس کو نشانہ بنایا۔
امریکہ نے کہا کہ یہ حملے اس کے فوجیوں اور اس علاقے سے گزرنے والے بین الاقوامی تجارتی جہازوں پر حالیہ حملوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈنے کہا کہ امریکی افواج مکمل چوکس ہیں اور کسی بھی ایرانی حملے کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ حالیہ حملے ایران کو وارننگ کے طور پر کیے گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان حملوں سے جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات پر اثر انداز ہونے کے امکان نہیں ہیں۔ ادھرایران نے امریکی اڈوں پر حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔