نئی دہلی ،03؍نومبر (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا)ترنمول کانگریس کے سابق رہنما مکل رائے جو کبھی مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی کے بعد سب سے زیادہ طاقتور رہنما مانے جاتے تھے انہوں نے جمعہ کو بی جے پی کا دامن تھام لیا۔مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے پارٹی میں ان کا استقبال کیا۔بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد مکل رائے نے کہاکہ مغربی بنگال میں بی جے پی اقتدار میں آئے گی۔پی ایم مودی کی قیادت میں کام کرنے پر فخر ہے۔انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ بی جے پی فرقہ وارانہ نہیں بلکہ سیکولر ہے اور مستقبل قریب میں مغربی بنگال میں پارٹی اقتدار میں آئے گی۔اس موقع پر اسٹیج پر موجود روی شنکر پرساد نے کہا کہ مکل رائے کے تجربے سے پارٹی کو فائدہ ملے گا۔پرساد نے کہا کہ مکل رائے ترنمول کانگریس کے بانی رکن رہے ہیں اور انہوں نے ترنمول کانگریس کو اقتدار میں پہنچانے میں اہم کردار نبھایا۔رائے نے مؤثر طریقے سے سی پی ایم کے 30سال کی حکمرانی کے دوران جاری زیادتی کے خلاف جدوجہد کی اور اس وقت سی پی ایم کے دہشت گردی کو ختم کرنے میں ہمت سے لڑے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی پھیل رہی ہے اور ہمارا علاقہ بڑھ رہا ہے۔آج ملک میں 13 ریاستوں میں ہماری پارٹی کے وزیر اعلی ہیں اور پانچ ریاست میں ہمارے نائب وزیر اعلی ہیں۔مرکز میں ہماری حکومت ہے۔ مکل رائے جیسے بڑے اور تجربہ کار لیڈر کے بی جے پی میں شامل ہونے کا ہمیں فائدہ ملے گا۔مکل رائے کے بی جے پی میں آنے سے پارٹی کی توسیع میں مددملے گی۔قابل ذکر ہے کہ مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی کے ساتھ مل کر ٹی ایم سی کے قیام کرنے والوں میں شامل رہے مکل رائے یو پی اے حکومت میں مرکزی وزیر اور راجیہ سبھا کے رکن رہ چکے ہیں۔مکل رائے کے بی جے پی میں شامل ہونے کی قیاس آرائی کافی دنوں سے چل رہی تھی۔گزشتہ ماہ ہی راجیہ سبھا سے ان کا استعفی منظور کیا گیا تھا۔رائے نے 11 اکتوبر کو راجیہ سبھا کے چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو سے ملاقات کر انہیں اپنا استعفی سونپا تھا۔اس موقع پر مکل رائے نے کہا کہ میرا پورا یقین ہے کہ بی جے پی کی حمایت کے بغیر ترنمول کانگریس بنگال میں اقتدار میں نہیں آ سکتی تھی۔1998 میں وہ بی جے پی کے ساتھ مل کر لوک سبھا کا انتخاب لڑی، 1999 میں ترنمول این ڈی اے کی اتحادی بن کر انتخابات لڑی اور ممتا جی واجپئی حکومت میں وزیر بھی بنی۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی فرقہ وارانہ نہیں بلکہ سیکولر طاقت ہے اور آنے والے وقت میں وہ بنگال میں اقتدار میں آئے گی۔