لکھنؤ،22اگست(ایس او نیوز/آئی ا ین ایس انڈیا)سپریم کورٹ کی طرف سے تین طلاق کو غیر آئینی قرار دئے جانے کے فیصلے کا آدتیہ ناتھ نے خیر مقدم کیا ہے۔اتر پردیش حکومت نے اس فیصلے کو تاریخی بتایاہے۔ریاست کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے سپریم کورٹ کے احکامات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تاریخی، ترقی پسند اور آدھی آبادی کو انصاف کے ساتھ ساتھ ان کو بااختیار بنانے کی راہ ہموار کرنے والا خوش آئند فیصلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ بڑی آبادی انصاف اور اس کے حقوق سے محروم تھی۔سپریم کورٹ کی آئینی بنچ کی طرف سے اکثریت کی بنیاد پریہ فیصلہ دیا گیا، اس بڑی آبادی کو انصاف اور بااختیار بنانے کی طرف لے جائے گا،ہم یقین رکھتے ہیں کہ اس سمت میں زیادہ مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ یہ آدھی آبادی کو بااختیار بنانے کے ساتھ ساتھ انصاف اور احترام کے ساتھ جینے کا حق دینے سے منسلک مسئلہ ہے۔سپریم کورٹ نے اس پر غور کیا اور اس طرح کا تاریخی اور انقلابی فیصلہ دیا۔غور طلب ہے کہ سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کی بنچ نے آج اکثریت سے فیصلہ سناتے ہوئے مسلمانوں میں ایک ساتھ مسلسل تین بار طلاق بول کر بیوی کو چھوڑنے کے عمل کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا ہے۔عدالت نے مرکزی حکومت سے بھی اس سلسلے میں قانون بنانے کا مطالبہ کیا۔