چینائی10 مئی (ایس او نیوز): تمل ناڈو کے نومنتخب وزیرِ اعلیٰ سی جوزف وجے کی حلف برداری تقریب کے دوران ایک غیر متوقع لمحہ اُس وقت پیش آیا، جب انہوں نے حلف مکمل کرنے کے فوراً بعد اسٹیج پر تقریر شروع کردی، جس پر گورنر راجیندر وشوناتھ آرلیکر نے مداخلت کرتے ہوئے انہیں روک دیا۔ اس واقعہ کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئیں اور قومی میڈیا میں بھی اس پر وسیع بحث شروع ہوگئی۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق، سی جوزف وجے نے حلف لینے کے بعد طے شدہ متن سے ہٹ کر تمل زبان میں خطاب شروع کردیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وجے نے بغیر پرنٹ شدہ نقل دیکھے حاضرین سے گفتگو کرنی چاہی، تاہم گورنر آرلیکر نے درمیان میں مداخلت کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ مرحلہ صرف حلف برداری کے لیے مخصوص ہے اور تقریر بعد میں کی جاسکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، گورنر کی مداخلت کے باعث چند لمحوں کے لیے تقریب میں غیر یقینی کیفیت پیدا ہوگئی، تاہم بعد میں صورتحال کو سنبھال لیا گیا۔ اس واقعہ کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر مختلف سیاسی حلقوں، وجے کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان بحث چھڑ گئی۔ بعض افراد نے گورنر کے رویے کو غیر ضروری قرار دیا، جبکہ بعض نے آئینی طریقۂ کار کا حوالہ دیتے ہوئے اسے مناسب اقدام بتایا۔
کئی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں وجے کی پہلی تقریر کے اہم نکات شائع کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے بدعنوانی کے خاتمے، عوام سے جھوٹے وعدے نہ کرنے اور ریاست میں ’’صرف ایک طاقت کا مرکز‘‘ ہونے جیسے بیانات دیے۔ کئی نیوز چینلس نے تقریب کی مختلف ویڈیوز بھی جاری کیں، جن میں وجے کو حلف کے بعد خطاب کرتے دیکھا گیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، وجے چونکہ فلمی دنیا سے سیاست میں آئے ہیں اور ان کی عوامی مقبولیت غیر معمولی ہے، اس لیے حلف برداری کے دوران ان کا روایتی سرکاری پروٹوکول سے ہٹ کر براہِ راست عوام سے مخاطب ہونا غیر متوقع نہیں تھا۔ تاہم گورنر کی فوری مداخلت نے اس لمحے کو مزید نمایاں اور متنازع بنا دیا۔