نئی دہلی ، 10/ مئی (ایس او نیوز /ایجنسی)شدید گرمی کی لہر کے درمیان مغربی اضطراب کے زیرِ اثر ملک کے شمالی، مشرقی اور وسطی حصوں میں موسم نے شدید تباہی مچا دی ہے۔ آندھی، طوفان اور گرج چمک کے ساتھ ہونے والی موسلادھار بارش کے مختلف واقعات میں بہار اور جھارکھنڈ میں 6 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 5 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ موسمی تبدیلی شمال مشرق سے لے کر جنوبی ہندوستان تک اثر انداز ہو رہی ہے، جہاں کہیں ہلکی تو کہیں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ شمالی ہند کے میدانی علاقوں میں شدید گرمی کا زور برقرار ہے۔ فی الحال موسم میں بہتری کے کوئی واضح آثار نظر نہیں آ رہے، کیونکہ 11 مئی سے شمال مغربی ہندوستان میں ایک اور طوفانی اور بارشوں کی لہر کے آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ہندوستانی محکمہ موسمیات کے مطابق ہفتہ کی صبح سے لے کر آنے والے 24 گھنٹوں کے دوران بہار، جھارکھنڈ، مغربی مدھیہ پردیش، اڈیشہ، چھتیس گڑھ، مراٹھواڑہ، مشرقی مدھیہ پردیش، وسطی مہاراشٹر، تامل ناڈو، پڈوچیری اور شمالی کرناٹک کے کچھ علاقوں میں 50-80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلیں اور بارش ہوئی۔ پٹنہ میں شدید طوفان سے درخت اور بجلی کے کھمبے اکھڑ گئے جس سے 3 افراد ہلاک اور 5 زخمی ہو گئے۔ ٹریفک میں بھی شدید خلل پڑا۔ جھارکھنڈ کے کوڈرما ضلع میں کل رات تیز بارش کے دوران آسمانی بجلی گرنے سے 3 افراد کی موت ہو گئی۔ یہ تینوں ایک ہی خاندان کے تھے۔ اس سلسلے میں ریاستی حکومت نے ہر ایک کو 4-4 لاکھ روپے کی مالی مدد کا اعلان کیا ہے۔
آئی ایم ڈی کے مطابق ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، مغربی بنگال، سکم، شمال مشرقی ریاستوں، گجرات اور تمل ناڈو میں 30-50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلیں، اس کے ساتھ آسمانی بجلی اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی۔ ہماچل پردیش میں رام پور، روہڑو اور کلپا اضلاع میں تیز ہوائیں چلیں اور بجلی چمکتی رہی۔ محکمہ موسمیات نے 12 اور 13 مئی کو ریاست کے 4 اضلاع میں آندھی-طوفان اور بجلی کڑکنے کی پیش گوئی کی ہے۔
آئی ایم ڈی نے 11 مئی سے موسم میں تبدیلی کی پیش گوئی کی ہے۔ 10 مئی کو شمالی ہندوستان کے میدانی علاقوں میں درجہ حرارت تیزی سے بڑھے گا، جب کہ گجرات کے سوراشٹرا، کچھ اور مغربی راجستھان میں گرمی کی لہر متوقع ہے۔ اس دوران بہار، جھارکھنڈ، مغربی بنگال اور شمال مشرقی ریاستوں میں بارش، گرج چمک اور ژالہ باری کی توقع ہے۔ جنوبی ہندوستان کی کئی ریاستوں میں گرج چمک کے ساتھ تیز بارش کی وارننگ بھی جاری کی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے کسانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ زرعی کاموں میں احتیاط برتیں، کیونکہ تیز ہوائیں سبزیوں اور پھلوں کی فصلوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ آندھی اور بجلی چمکنے کے دوران درختوں اور بجلی کے کھمبوں کے نیچے نہ کھڑیں ہوں۔
اس دوران آئی ایم ڈی نے اطلاع دی ہے کہ جنوب مغربی مانسون شیڈول کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے اور یکم جون کو کیرالہ کے ساحل تک پہنچنے کی توقع ہے۔ تمل ناڈو، کیرالہ اور آس پاس کے علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ طوفان کی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، جب کہ انڈمان اور نکوبار جزائر، جہاں عام طور پر ہندوستان میں مانسون کی پہلی دستک ہوتی ہے، اب اپنی متوقع آمد سے تقریباً دو ہفتے دور ہے۔