ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / حکومت ہندکے یکساں سول کورڈکی طرف بڑھتے قدم،ٹرپل طلاق پر پابندی کے بعد اٹھے سوال،کیااگلانمبرحلالہ اورتعددازدواج کا؟

حکومت ہندکے یکساں سول کورڈکی طرف بڑھتے قدم،ٹرپل طلاق پر پابندی کے بعد اٹھے سوال،کیااگلانمبرحلالہ اورتعددازدواج کا؟

Wed, 23 Aug 2017 10:51:00    S.O. News Service

نئی دہلی،22اگست(ایس او نیوز/آئی ا ین ایس انڈیا)سپریم کورٹ نے منگل کو تاریخی فیصلے میں تین طلاق کو غیر آئینی قراردیا۔جس کے بعداب طلاق بدعت یعنی ایک بارمیں تین بارطلاق بول کرطلاق دیناغیرآئینی ہوکربندہوگیا۔عدالت کے اس فیصلے کو مسلم خواتین کی آزادی بتایاجارہا ہے اورساتھ ہی مسل پرسنل لاء کو بھی چیلنج کیاجارہا ہے،جس کے بعد یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ مودی حکومت یونیفارم سول کوڈ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ٹرپل طلاق پر فیصلے کا استقبال کرتے ہوئے، بی جے پی لیڈرسبرامنیم سوامی نے بھی اس پر کھل کربات کی۔انہوں نے کہا کہ اب ہماری حکومت کا اگلا مرحلہ یونیفارم سول کوڈ ہوگا۔اسی وقت مسلم مذہبی اسکالرفہیم بیگ نے یہ سوال اٹھادیاہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹرپل طلاق صرف بہانا ہے، یونیفارم سول کورڈنافذکرنا مودی حکومت کانشانہ ہے۔سوال یہ ہوتا ہے کہ آیا حلالہ اورتعددازوداج کے معاملات بھی سپریم کورٹ میں جائیں گے۔اگر حکومت اس سمت میں بڑھتی ہے تو یہ ممکن ہے، اگلا ہدف حلالہ اوربہوشادی ہو۔

سائرہ بانو جس نے ٹرپل طلاق کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائرکی تھی، نے بھی مطالبہ کیا تھا کہ تعددازدواج کوبھی ختم کیا جانا چاہئے۔اسلامی شریعت کے مطابق کوئی بھی مسلمان چار شادیاں کرسکتاہے۔لہذا اب سوال یہ ہے کہ آیا حلالہ اور تعددازدواج جیسے مسائل پر عدالت کادروازہ کھٹکھٹایاجائے گا؟ اگر ایسا ہوتا ہے تو منگل کو تین طلاق پر سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ ایک مثال بن سکتا ہے،کیونکہ اس معاملے میں مسلم پرسنل لاء نے عدالت کے حق میں کہا تھا کہ عدالتوں کوان کے ذاتی حقوق میں مداخلت نہیں کرنا چاہئے۔بورڈ نے اس معاملے کو اپنی سطح پر حل کرنے کا وعدہ کیا لیکن آئینی بنچ نے اسے درکنارکردیا۔
 


Share: