ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / لنگایت فرقہ کو الگ مذہب قرار دینے کے مطالبہ میں شدت،19؍نومبر کوبنگلور میں بہت بڑے جلسۂ عام کا اہتمام

لنگایت فرقہ کو الگ مذہب قرار دینے کے مطالبہ میں شدت،19؍نومبر کوبنگلور میں بہت بڑے جلسۂ عام کا اہتمام

Thu, 02 Nov 2017 23:22:05    S.O. News Service

بنگلورو،2؍نومبر(ایس او نیوز؍عبدالحلیم منصور) لنگایت فرقہ کو ملک کے ساتویں مذہب کے طور پر باضابطہ منظوری دینے کی مانگ پر زور دینے کیلئے 19نومبر کو شہر میں لنگایتوں کا ایک بہت بڑا کنونشن نیشنل کالج میدان میں منعقد ہوگا۔مختلف لنگایت مٹھوں کے سربراہ اس کنونشن میں شرکت کریں گے، جس میں سابق جج جسٹس شرن ارلی ناگراج افتتاحی خطاب کریں گے۔ لنگایت فرقہ سے وابستہ ایک مٹھ کے سربراہ ماتے مہادیوی نے آج ایک اخباری کانفرنس میں اعلان کیا کہ جس طرح سکھوں ، بدھ اور جین مذاہب سے وابستہ لوگوں کو آزاد مذاہب کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے، انہی خطوط پر لنگایت فرقہ کو بھی آزاد مذہب کے طورپر تسلیم کیا جائے اور اسے اقلیتوں کے برابر مرتبہ دیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ سدرامیا سے لنگایت فرقہ سے وابستہ مٹھوں نے گذارش کی ہے کہ لنگایت طبقے کو ہندو مذہب کا حصہ نہ مان کر اسے الگ مذہب کا درجہ دلانے کیلئے قدم اٹھائے جائیں ۔ انہوں نے کہاکہ لنگایت فرقہ سے وابستہ تمام قائدین کو اس مسئلے پر ایک ہوجانا چاہئے۔ ماتے مہادیوی نے کہاکہ کسی بھی صورت میں ویر شیوا اور لنگایت طبقات ایک نہیں ہوسکتے ،کیونکہ بسونا کے پیرو کار لنگایت کسی مورتی کی پوجا نہیں کرتے ،بلکہ ویر شیوا شیو کو مانتے ہیں اسی لئے مذہبی اعتبار سے یہ دونوں طبقات الگ الگ ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جب تک لنگایت کے ساتھ ویر شیوا کو جوڑا جائے گا اسے الگ مذہب کا درجہ نہیں مل پائے گا۔انہوں نے کہاکہ آنے والے دنوں میں آئینی اعتبار سے لنگایت مذہب کو الگ درجہ دئے جانے تک مٹھوں کے سربراہوں کی تحریک جاری رہے گی۔ اس دوران ریاستی وزیر برائے آبی وسائل ایم بی پاٹل نے بھی علیحدہ لنگایت مذہب کی پرزور وکالت کرتے ہوئے کہاکہ جب تک لنگایت کو ملک کا ساتواں آزاد مذہب تسلیم نہیں کیا جاتا اس وقت تک اس سلسلے میں تحریک جاری رہے گی۔ انہوں نے کہاکہ بیدر ، کلبرگی ، بیلگاوی اور لاتور میں لنگایت طبقوں کے بڑے جلسے منعقد ہوچکے ہیں 5؍ نومبر کو ہبلی میں لنگایت طبقے کا ایک بڑا جلسہ منعقد ہونے جارہا ہے، جس میں پانچ لاکھ افراد شرکت کریں گے۔لنگایت قائدین نے وزیر اعلیٰ سدرامیا کو دو مرتبہ عرضداشت پیش کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگلے ماہ لنگایتوں کی ایک بہت بڑی ریلی بنگلور میں بھی منعقد کی جائے گی۔


Share: