ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ممبئی احمد آباد روٹ کی 40فیصدی ٹرین کی سیٹیں رہتی ہیں خالی، اب بلیٹ ٹرین کا کیا ہوگا

ممبئی احمد آباد روٹ کی 40فیصدی ٹرین کی سیٹیں رہتی ہیں خالی، اب بلیٹ ٹرین کا کیا ہوگا

Thu, 02 Nov 2017 11:47:03    S.O. News Service

احمد آبادیکم نومبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) مودی حکومت جہاں ممبئی سے احمد آباد کے درمیان بلٹ ٹرین چلانے کی منصوبہ بندی پر اقدامات کر رہی ہے، وہیں ایک آر ٹی آئی (حق اطلاعات) میں پیش کئے گئے درخواست کے ذریعے یہ معلومات مل رہی ہیں کہ اس علاقے کی ٹرینوں میں 40 فیصد سیٹیں خالی ہی رہتی ہیں اور اس سے مغربی ریلوے کو کافی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ ممبئی کے کارکن انیل گل گلی کو ملے آر ٹی آئی کے جواب میں مغربی ریلوے نے کہا ہے کہ اس علاقے میں گزشتہ تین ماہ میں 30 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے، یعنی ہر مہینے 10 کروڑ روپے کا نقصان سامنے آیا ہے ۔ گل گلی نے کہا کہ یہ بلٹ ٹرین منصوبے اور اس کے قیام پر سنگین سوال قائم کرتا ہے۔ چاہے جب بھی اس کی تعمیر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہند اپنے زعم میں بلٹ ٹرین منصوبے پر ایک لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کرنے جا رہی ہے، لیکن اس نے اپنا ہوم ورک ٹھیک سے نہیں کیا ہے اور اس کے منفی پہلوؤں پر غور نہیں کیا۔ بھارتی ریلوے نے بھی اعتراف کیا کہ اس علاقے میں کوئی نئی ٹرین چلانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، کیونکہ یہ پہلے سے ہی خسارہ میں ہے۔ گل گلی نے سوالات آر ٹی آئی کے تحت سوالات کئے تھے کہ دونوں شہروں کے درمیان چلنی والی ٹرینوں کی سیٹیں کتنی خالی رہتی ہیں تو محکمہ کی طرف سے جواب ملا کہ اس روٹ پر چلنی والی ٹرینوں کی سیٹیں 40فیصدی خالی ہی رہتی ہیں جس سے ریلوے کو خسارے کا سامنا ہے ۔ سوال یہ ہوتا ہے کہ جب اس روٹ میں چلنی والی ٹرینوں کی سیٹیں خالی ہی رہتی ہیں تو پھر بلیٹ ٹرین کیلئے اتنی ساری کوششیں کیوں کی جارہی ہیں جب کہ بھارتی ریلوے کے دوسرے زون میں چلنے والی ٹرینوں میں کھچاکھچ بھیڑ ہوتی ہے۔ 


Share: