ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / نیویارک میں دہشت گردانہ حملہ: ڈرائیور نے راہ گیروں پر ٹرک چڑھادی؛ 8 ہلاک 12 زخمی

نیویارک میں دہشت گردانہ حملہ: ڈرائیور نے راہ گیروں پر ٹرک چڑھادی؛ 8 ہلاک 12 زخمی

Wed, 01 Nov 2017 15:48:38    S.O. News Service

نیویارک یکم نومبر (ایس او نیوز/ایجنسی)  امریکہ میں نیویارک کے لوئر مین ہٹن میں ایک ٹرک ڈرائیور نے سائیکل لین میں راہگیروں کو ٹکر مار کر کم از کم آٹھ افراد کی جان لے لی جبکہ 12 دیگر زخمی ہوگئے ۔ افسران نے اسے ’’دہشت گردانہ حملہ‘‘ بتایا ہے۔ نیویارک کے پولیس کمشنر جیمس او نیل نے بتایا کہ 29 سالہ ٹرک ڈرائیور جب ایک اسکول بس میں ٹکر مار کر فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا اسی دوران پولیس نے اس کے پیٹ میں گولی مار ی اور اسے حراست میں لے لیا۔ اسکول بس میں سوار دو بچے اور دو بالغ افراد زخمی ہو گئے ۔ اس حادثے میں آٹھ میں سے چھ افراد کی موقع پر ہی موت ہو گئی جبکہ دو دیگر نے ہسپتال میں دم توڑ دیا۔

امریکی ہوم لینڈ سیکورٹی محکمہ کے ایک ترجمان نے اس واقعہ کو’’ دہشت گردی کی واضح کارروائی ‘‘ بتایا ہے۔ پولیس کمشنر نے کہا کہ ٹرک سے باہر نکلتے وقت مشتبہ بیان اور حملے کی صورت میں تفتیش کاروں کو یہ ’’دہشت گردانہ واقعہ‘‘ معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اس وقت ڈرائیور کی شناخت نہیں بتا سکے گی۔ گورنر اینڈریو كيومو نے کہا کہ مشتبہ شخص نے اکیلے کام کیا ہے جبکہ میئر بل دے بلازيو نے اس حملے کو’’بزدلانہ دہشت گردانہ کارروائی‘‘ قرار دیا ہے۔ محکمہ فائر بریگیڈ کے کمشنر ڈینیل نگرو نے کہا کہ 11 زخمیوں کو علاج کے لئے ہسپتالوں میں داخل کرا دیا گیا ہے۔

اس واقعہ نے گزشتہ سال یورپ میں ہوئے حملوں کی یاد تازہ کردی جس میں بہت سے افراد ہلاک ہوئے تھے۔ گزشتہ برس 14 جولائی کو ایک مشتبہ شخص نے فرانسیسی شہرنائس میں ایک بھیڑ میں ایک بڑے ٹرک کو داخل کر دیا تھا جس میں 86 افراد ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہو گئے تھے۔ اس واقعہ کے پانچ ماہ بعد ہی ایک 23 سالہ پاکستانی تارک وطن نے وسطی برلن کی بھیڑبھاڑ والی کرسمس مارکیٹ میں ایک ٹرک گھسا دیا جس کی زد میں آکر 12 افراد کی موت اور 48 دیگر زخمی ہو گئے تھے۔

اس سال اپریل میں ا سٹاک ہوم میں ایک شخص نے ٹرک کو ایک مصروف سڑک پرواقع ایک ڈپارٹمنٹ اسٹور کو نقصان پہنچایا تھا جس میں تین افراد کی موت ہوگئی تھی۔ وزیر اعظم نے اسے ایک دہشت گردانہ حملہ بتایا تھا۔


Share: