گڑگاؤں8/نومبر ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) سی بی آئی کی تفتیش سے جہاں پردیومن قتل کیس پر شبہات و اندیشوں کے بادل چھٹنا شروع ہوئے ہیں او رجس طرح سے کسی 11سالہ معصوم کے قتل کی وجوہات سامنے آ رہی ہیں اس سے اسکول انتظامیہ کی غفلت تو ظاہر ہوتی ہی ہے ، تاہم اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ کسی کو دھمکا کر کس طرح اقرار مجرم بنایا جاسکتا ہے ۔ مبینہ ملزم اشوک کے والد نے سی بی آئی کی اس منصفانہ تفتیش پر خوشی کا اظہا رکرتے ہوئے کہا کہ سی بی آئی غیر جانبدار ہو کر اپنے فرائض کو انجام دے رہی ہے اور یہ سچ ثابت ہوا کہ میرا لڑکا اشوک بے گناہ ہے ۔ نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے اشوک کے والد امیر چند نے کہا کہ مجھے یقین تھا کہ میرا لڑکا بے گناہ ہے اس کو اسکول انتظامیہ دھمکاکر جرم قبول کرنے پر مجبور کر رہی ہے ۔ انہوں نے اسکول انتظامیہ پر بھی الزام لگایا کہ اسکول انتظامیہ نے مار پیٹ کر جرم قبول کروایا ہے ۔ اب سوال یہ ہوتا ہے کہ کیاجس مجرم طالب علم کو سی بی آئی نے گرفتار کیا ہے اس کو جیل کی سزا ہوگی یا پھر چائلڈ ہوم میں زندگی گذارے گا ۔ تاہم اس قضیہ سے اسکول انتظامیہ کا جبر بھی عیاں ہوتا ہے اور اسکول انتظامیہ بھی جرم میں برابر کی شریک ہے ۔