ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کارکلا کی مسجد کے مولوی صاحب 21 طلبہ کے ساتھ غائب ہونے کے بعدکمٹہ سے برآمد

کارکلا کی مسجد کے مولوی صاحب 21 طلبہ کے ساتھ غائب ہونے کے بعدکمٹہ سے برآمد

Fri, 03 Nov 2017 21:26:03    S.O. News Service

کارکلا 3؍نومبر(ایس او نیوز) ضلع اُڈپی کے کارکلا کی مدینہ مسجد میں بہار سے تعلق رکھنے والے زیر تعلیم 21طلبہ کے ساتھ بہار ہی کے رہنے والے مولوی صاحب اچانک رات کے وقت لاپتہ ہو گئے تھے، مگر بعد میں پولس نے مولوی صاحب  کو بچوں کے ساتھ کمٹہ میں  دھرلیا۔

مسجد سے جمعرات کی شب میں بچوں کے ساتھ لاپتہ ہونے والے مولوی کی شناخت محمد  طیب کی حیثیت سے کی گئی تھی ۔ جیسے ہی بچے غائب ہوئے، اُسی وقت مولوی صاحب بھی غائب ہوگئے تھے، جس کو دیکھتے ہوئے  شبہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ مولوی  طیب نے ہی بچوں کو لے کر واپس بہار فرار ہوگئے ہوں گے۔اندازہ لگایا جارہا تھا کہ اس کے لئے انہوں نے دیر رات کو ٹیمپو کے ذریعے کنداپور تک کا سفر کیاہوگا جہاں سے بہار کے لئے ٹرین پکڑی ہوگی۔

اُڈپی پولس کو واقعے کی جانکاری ملتے ہی وہ حرکت میں آگئی اور تلاشی مہم شروع کی گئی۔ بعد میں اُترکنڑا پولس نے بچوں کو مولوی صاحب کے ساتھ کمٹہ ریلوے اسٹیشن پر دھر لیا۔ 

ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق  محمد طیب اُسی مدینہ  مسجد کے مدرسہ  میں بچوں کو عربی پڑھاتے تھے،  انہوں نے ہی ان سبھی بچوں کو بہار سے اس مدرسہ میں داخل کروایا تھا۔بتایا گیا ہے کہ جب طیب صاحب نے بچوں کو  مدرسہ میں داخلہ کروایا تو مسجد انتظامیہ کی جانب سے سفر کے تمام اخراجات ادا  کردئے تھے، مگر مولوی طیب نے سفری اخراجات بچوں کے والدین سے بھی حاصل کیا تھا،  جب مسجد انتظامیہ کی جانب سے مولوی صاحب کو  بچوں کے سفری اخراجات واپس کرنے کے لئے کہا گیا تو ناراض مولوی نے بچوں کو ہی لے کر غائب ہوگیا۔

کافی تلاش کے بعد جمعہ کی شام قریب 5:30 بجے  مسجد انتظامیہ کے عبدالصمد کی طرف سے اُڈپی پولس تھانہ میں معاملہ درج کیا گیا اور جیسے ہی پولس متحرک ہوئی، شام کو ہی پولس نے متسی گندھا ایکسپریس ٹرین سے بچوں کو برآمد کرلیا۔ کمٹہ میں نوجوانوں کو واقعے کی اطلاع ملتے ہی الاتحاد  یوتھ کمیٹی  کی جانب سے مدرسہ کے سبھی بچوں کے لئے شام کو کھانے کا انتظام کیا گیا تھا۔ بعد میں  سبھی بچوں کو پولس نے  بحفاظت  واپس کارکلا مدرسہ پہنچادیا۔


Share: