شملہ، 3؍نومبر (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا)ہماچل پردیش اسمبلی انتخابات 2017 کے آغاز کے بعد جہاں کچھ لیڈر اپنی سیٹ بچانے کی قواعد میں لگ گئے ہیں تو کچھ لیڈروں نے ایک سیٹ پر اپنی گرفت اتنی مضبوط کر لی ہے کہ انہیں وہاں سے ہرانا اپوزیشن پارٹی کے لئے ٹیڑھی کھیر ثابت ہو رہی ہے۔ ہماچل پردیش کی کٹلیہڑ سیٹ بھی اسی گنتی میں آتی ہے جہاں گزشتہ پانچ اسمبلی انتخابات اور ڈھائی دہائی سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) راج کر رہی ہے۔ ہماچل پردیش کی اسمبلی سیٹ نمبر -45 کٹلیہڑ اسمبلی حلقہ میں 2012 اسمبلی انتخابات کے وقت 68،940 ووٹروں نے اپنے حق کا استعمال کیا تھا۔کٹلیہڑ اسمبلی حمیر پور لوک سبھا حلقہ کے تحت اور اونا ضلع کا حصہ ہے۔کٹلیہڑ ہندوستان کی پرانی ریاستوں میں سے ایک تھا جس پر رانا امرت پال کی حکومت تھی۔1825 میں پنجاب میں ملنے کے بعد ریاست کا وجود ختم ہو گیا اور اس علاقے پر برطانوی راج نے قبضہ کر لیا۔کٹلیہڑ 1957 میں ہندوستان کا حصہ بنا اور موجودہ میں ہماچل پردیش کا ایک حصہ ہے۔کٹلیہڑ اسمبلی حلقہ میں گزشتہ پانچ انتخابات سے بی جے پی کا پرچم لہرایا ہے۔ساتھ ہی تقریبا تین اسمبلی انتخابات میں یکطرفہ جیت حاصل کر بی جے پی کے وریندر کنور نے اس علاقے پر اپنی دھاک جماکر اپنی جڑیں مضبوط کر لی ہے۔بی جے پی کے وریندر کنور کو ایک تیز طرار لیڈر سمجھا جاتا ہے۔کنور نے یونین کی رکنیت حاصل کی تھی۔نادون میں پیدا ہوئے 53 سالہ کنور لاء گریجویٹ ہیں۔انہوں نے فارمیسی میں ڈپلوما کیا ہے۔کنور نے 1981میں ہمیر پور سے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا۔1993 میں وہ اونا کے بی جے پی یوا مورچہ کے ضلع صدر بنے۔کنور 2000 میں ضلع کونسل میں منتخب ہوئے۔انہوں نے پہلی بار 2003 میں کٹلیہڑ سے الیکشن لڑا اور جیت درج کی۔انہوں نے دوسری بار 2007میں اور تیسری بار 2012 میں الیکشن جیت کر اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے۔پچھلے ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے کنور نے 2017 انتخابات میں بھی نامزدگی داخل کر اپنی دعویداری کو مضبوط کر دی ہے۔وہیں دوسری طرف اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس نے وریندر کنور کے خلاف وویک شرما کو انتخابی میدان میں اتارا ہے۔وویک شرما راج گڑھ کے کانگریس منڈل پچڑ کے سیکرٹری جنرل ہیں۔گزشتہ چھ اسمبلی انتخابات سے علاقے سے باہر کانگریس شرما کے سہارے اپنی کھوئی ہوئی زمین کی تلاش میں مصروف ہے۔اس کے ساتھ ہی بہوجن سماج پارٹی کے منوہر لال، سوابھیمان پارٹی کے سندیپ شرما اور دو آزاد امیدوار بھی انتخابی میدان میں ہیں۔کٹلیہڑ اسمبلی حلقہ پر قابض بی جے پی کے لئے یہ ایک محفوظ سیٹ مانی جا رہی ہے۔1993 سے اس سیٹ پر قابض بی جے پی نے اس سیٹ کو اپنی سب سے محفوظ سیٹوں میں شامل کر لیا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس سیٹ پر دوسرے امیدوار کچھ تاثر چھوڑ پاتے ہیں یا ایک بار پھر اس علاقے میں کمل کھلتا ہوا دکھائی دے گا۔ہماچل پردیش میں 9 نومبر کو پولنگ ہونی ہے جس کی ووٹوں کی گنتی18 دسمبر کو کی جائے گی۔