نئی دہلی ، 20/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی)فرانس میں جی-7 اعلیٰ سطحی سمیلن کے دوران ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ملاقات پر آج کانگریس نے کچھ اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ کانگریس ترجمان پون کھیڑا نے پریس کانفرنس کے دوران پی ایم مودی کے رویہ پر حیرانی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ڈونالڈ ٹرمپ کے سامنے نریندر مودی کی نظریں جھکی ہوئی تھیں۔ وہ صوفے پر دُبک کر بیٹھے ہوئے تھے اور ٹرمپ کو ’ایکسیلنسی‘ کہہ رہے تھے۔ یہ بہت شرمناک رہا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کمپنی کا ایجنٹ مالک سے بات کر رہا ہو اور ہم نے ایسا وزیر اعظم پہلے کبھی نہیں دیکھا۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’امریکہ نے ہمارے 3 ملاحوں کا قتل کر دیا اور ٹرمپ نے افسوس تک ظاہر نہیں کیا، کیونکہ نریندر مودی تو دُبک کر بیٹھے تھے اور اپنی تعریف سے ہی خوش تھے۔
اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے پون کھیڑا نے کہا کہ ’’نریندر مودی کھی کھی کر ہنستے رہے، لیکن ہندوستانی ملاحوں کے قتل پر ٹرمپ سے ایک سوال نہیں پوچھ پائے، کیونکہ ان کے چمڑے (چہرے پر نکھار) کی تعریف ہو گئی تھی۔ ایس جئے شنکر مارکو روبیو سے ڈانٹ کھا کر واپس آتے ہیں، نریندر مودی اپنے چمڑے کی تعریف سن کر واپس آ جاتے ہیں۔ بہت برا لگ رہا ہے کہ سب سے بڑی جمہوریت کی حکومت عالمی پلیٹ فارم پر اتنی بے آبرو ہو کر واپس آ جاتی ہے۔‘‘ منموہن حکومت کا ایک واقعہ یاد کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’دیویانی کھوبراگڑے معاملہ میں منموہن سنگھ نے بطور وزیر اعظم امریکہ کو جو پیغام دیا تھا، اس سے پوری دنیا حیران ہو گئی تھی۔ لیکن ٹرمپ کے سامنے نریندر مودی ہندوستانی ملاحوں کے قتل کی بات تک نہیں کہہ سکے، کیونکہ ان کے لیے ملک نہیں، پی آر فرسٹ ہے۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں لانے والی یو پی اے حکومت تھی، لیکن آج مودی کے دوست ٹرمپ ’آپریشن سندور‘ کے بعد عاصم منیر کو عشائیہ پر بلاتے ہیں۔‘‘ تلخ انداز اختیار کرتے ہوئے انھوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ ’’ہمیں انگریزوں کو بھگانے میں 200 سال لگے، لیکن 12 سال میں نریندر مودی پھر سے غلامی لے آئے۔‘‘
مودی-ٹرمپ ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کانگریس ترجمان نے کہا کہ ’’جب مودی-ٹرمپ ساتھ بیٹھے تھے، تب تین باتیں ہوئیں... 1. امریکہ نے ’یو ایس انڈو-پیسفک کمانڈ‘ کا نام بدل کر ’یو ایس پیسفک کمانڈ‘ کر دیا، 2. امریکہ نے نقشہ میں پاکستان مقبوضہ کشمیر کا حصہ پاکستان کا دِکھا دیا، 3. امریکہ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے جولائی 2026 کے ویزا بلیٹن میں ہندوستانیوں کے لیے ای بی-2 اور ای بی-5 ویزا بند کر دیا۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں ’’نریندر مودی نے ٹرمپ کے سامنے نہ ہندوستانی ملاحوں کے قتل کا معاملہ اٹھایا، نہ یکطرفہ امریکی تجارتی معاہدہ کے بارے میں کوئی بات کی، نہ ہی آپریشن سندور کی جنگ بندی کا معاملہ اٹھایا۔ ٹرمپ نے نریندر مودی کے سامنے برکس کے کمزور پڑنے کی بات کہی، لیکن نریندر مودی کچھ نہیں بول پائے۔‘‘ اندرا گاندھی کو یاد کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’نریندر مودی دراصل اندرا گاندھی سے سیکھنا نہیں چاہتے، کم از کم جارجیا میلونی سے ہی سیکھ لیجیے کہ آنکھ میں آنکھ ملا کر جواب کس طرح دیا جاتا ہے۔‘‘
کانگریس ترجمان نے میڈیا کو 1986 کا وہ واقعہ یاد دلایا جب ’وائس آف امریکہ‘ سری لنکا میں اپنا ٹرانسمیٹر انڈین کوسٹ کے بغل میں لگانا چاہتا تھا، لیکن راجیو گاندھی نے ایسا نہیں ہونے دیا۔ اس واقعہ کا ذکر کر کھیڑا کہتے ہیں کہ ’’امریکہ نے ہمارے مہمان رہے آئی آر آئی ایس دینا کو ٹارپیڈو کر کے ڈبا دیا تھا، لیکن بدقسمتی دیکھیے نریندر مودی نے یہ سوال بھی ٹرمپ سے نہیں پوچھا۔ ٹرمپ کہہ رہے تھے– مودی کے پی ایم رہتے کوئی ہندوستان پر حملہ کرے گا تو امریکہ مدد کرے گا۔ یہ بیان ایسا تھا جیسے ہم امریکہ کی کالونی ہوں، کیونکہ ہندوستان نے اپنے دم پر کئی جنگ جیتے ہیں۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’یہ ضروری ایشوز تھے، جو نریندر مودی کو ٹرمپ کے سامنے اٹھانے تھے۔ لیکن مودی ’میلوڈی‘ والی انسٹا ریل پر کھلکھلا رہے تھے اور دمکتے چہرے کی تعریف سن کر شرم سے لال ہو رہے تھے۔‘‘