ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ہندو توا حامی کو چند دن میں ہی عبوری ضمانت اور دوسرا چھ سال سے جیل میں؛ دوہرے روئے پر کاکروچ جنتا پارٹی کا سوال

ہندو توا حامی کو چند دن میں ہی عبوری ضمانت اور دوسرا چھ سال سے جیل میں؛ دوہرے روئے پر کاکروچ جنتا پارٹی کا سوال

Wed, 16 Sep 2026 09:07:18    S O News
ہندو توا حامی کو چند دن میں ہی عبوری ضمانت اور دوسرا چھ سال سے جیل میں؛ دوہرے روئے پر کاکروچ جنتا پارٹی کا سوال

نئی دہلی، 16 ستمبر (ایس او نیوز): جنتَر منتر پر طالبہ کارکن کے والد پر مبینہ حملے کے الزام میں گرفتار خود کو ہندو توا کارکن بتانے والے سواتنترا بھاردواج کو صرف چند دن کی حراست کے بعد تین ہفتوں کی عبوری ضمانت ملنے پر کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) نے عدالتی نظام میں مبینہ دوہرے رویے پر سوال اٹھایا ہے۔ CJP کے بانی ابھجیت دیپکے نے کہا کہ ایک شخص، جس پر احتجاج کے دوران حملے کا الزام ہے اور جس نے مبینہ طور پر ویڈیو میں اس حملے پر فخر بھی کیا، اسے جلد عبوری ضمانت مل جاتی ہے، جبکہ دوسرے افراد برسوں سے جیل میں ہیں اور مقدمات کی باقاعدہ سماعت تک شروع نہیں ہو پاتی۔

پٹیالہ ہاؤس کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج سوربھ پرتاپ سنگھ لالر نے 15 ستمبر کو بھاردواج کو تین ہفتوں کی عبوری ضمانت دی۔ عدالت نے اس کے رویے پر نظر رکھنے اور بعد میں مستقل ضمانت کی درخواست پر فیصلہ کرنے کی بات کہی۔ عدالت نے تفتیش میں بعض خامیوں اور اس کی دس دن سے زائد حراست کا بھی ذکر کیا۔

یاد رہے کہ 4 ستمبر کو  CJP نے پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن کے باہر احتجاج کرتے ہوئے بھاردواج  کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا  جس کے  بعد اس مبینہ غنڈے کو حراست میں لیا گیا تھا۔ اس پر جنتَر منتر احتجاج کے دوران سنجے آزاد پر حملے کا الزام ہے۔

یہ معاملہ اس وقت مزید سنگین بحث کا موضوع بنا جب بھاردواج کی ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں اس نے مبینہ طور پر سنجے آزاد کی ’’کھوپڑی پھوڑنے‘‘ کا دعویٰ کیا تھا۔

CJP نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر ایسے معاملے میں گرفتار شخص کو تقریباً دس دن میں عبوری ضمانت مل سکتی ہے تو عمر خالد جیسے افراد چھ سال سے جیل میں کیوں ہیں، عمر خالد کو ستمبر 2020 میں دہلی فسادات سے متعلق UAPA مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ 13 ستمبر 2026 کو چھ سال کی حراست مکمل کر چکے ہیں۔

CJP کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صرف ایک شخص کی ضمانت کا نہیں بلکہ اس سوال کا ہے کہ قانون اور عدالتی عمل سب کے لیے یکساں رفتار اور معیار سے کیوں نہیں چلتے؟


Share: