ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / ایران کے حملے میں 16 امریکی فوجی اڈے نشانے پر، ناقابلِ تسخیر سمجھے جانے والے بیسز پر نئی تفصیلات سامنے آئیں

ایران کے حملے میں 16 امریکی فوجی اڈے نشانے پر، ناقابلِ تسخیر سمجھے جانے والے بیسز پر نئی تفصیلات سامنے آئیں

Sun, 03 May 2026 11:37:20    S O News

تہران  ، 3 مئی (ایس او نیوز / ایجنسی)کویت کے ’کیمپ بیوہرنگ‘ میں امریکی فوجیوں کا خلیجی خطے میں سب سے بڑا فوجی مرکز تھا۔ وہاں کبھی چہل پہل سے بھرپور ایک امریکی مائیکرو سٹی آباد تھا، لیکن اب وہ تقریباً خالی اور بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ یہ نقصان کئی ہفتوں تک جاری رہنے والے ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کی وجہ سے ہوا ہے۔ ایران نے نہ صرف کویت بلکہ خلیجی خطے کے مختلف ممالک میں موجود امریکی فوجی ٹھکانوں کو بے پناہ نقصان پہنچایا ہے۔

کویت ان کئی امریکی فوجی ٹھکانوں میں سے ایک تھا جنہیں تیل کی دولت سے مالا مال جزیرہ نما عرب میں ایران نے نشانہ بنایا۔ امریکی میڈیا ’سی این این‘ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے حملوں میں 8 ممالک میں پھیلے ہوئے کم از کم 16 امریکی فوجی ٹھکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔ یہ خطے میں امریکہ کی زیادہ تر فوجی موجودگی کو متاثر کرتی ہے۔ ان میں سے کچھ ٹھکانے اب تقریباً استعمال کے قابل نہیں بچے ہیں۔ ایران کے حملے اس وقت ہوئے جب امریکہ اور اسرائیل ایران کی دفاعی صلاحیتوں پر حملے کر رہے تھے۔

سی این این کو ان حملوں کی تحقیقات میں بے مثال تباہی کے واضح ثبوت ملے ہیں۔ امریکی ذرائع نے سی این این کو بتایا کہ انہوں نے امریکی فوجی ٹھکانوں پر ایسا نقصان پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ ان کے مطابق یہ حملے تیز، درست اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کیے گئے تھے۔ ایران کے اہم اہداف میں کروڑوں ڈالر مالیت کے طیارے بھی شامل تھے، جیسے بوئنگ ای-3 سینٹری۔ یہ خلیجی خطے میں امریکہ کو نگرانی کی بڑی صلاحیت فراہم کرتا تھا۔ یہ طیارہ اب تیار نہیں کیا جاتا اور اس کی قیمت تقریباً 500 ملین ڈالر بتائی جاتی ہے۔ ایران نے اہم مواصلاتی آلات کو بھی نشانہ بنایا، خاص طور پر ’گولف بال‘ کی طرح نظر آنے والے بڑے ڈھانچے، جنہیں ریڈوم کہا جاتا ہے۔ یہ سیٹلائٹ ڈش کی حفاظت کرتے ہیں، جو ڈیٹا ٹرانسمیشن کے لیے انتہائی ضروری ہوتے ہیں۔ اس خطے میں جنگ شروع ہونے کے ایک ماہ کے اندر ایران نے ایک کو چھوڑ کر تقریباً تمام ریڈوم تباہ کر دیے۔

ان سب میں سب سے اہم بات یہ رہی کہ ایران نے ریڈار سسٹم کو نشانہ بنایا۔ یہ انتہائی جدید، مہنگے اور تبدیل کرنے میں مشکل ہوتے ہیں، جو ایئر ڈیفنس کے لیے بے حد ضروری ہے۔ نقصانات کے تخمینے سے متعلق ایک امریکی پارلیمانی معاون نے انہیں سب سے آسان ہدف قرار دیا۔ ان کے الفاظ میں ہمارے ریڈار سسٹم ہمارے سب سے بڑے اور جامع ہونے کے ساتھ ساتھ ہمارے سب سے محدود وسائل بھی ہیں۔ یہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے اتحادی ممالک کے لیے ایک کشمکش کی صورتحال پیدا کرتی ہے۔ ایک طرف، ایران کی طاقت کا مظاہرہ خلیج کی سلامتی کے لیے امریکی موجودگی کو مزید ضروری بناتا ہے، لیکن دوسری طرف اب ایک نئی حقیقت سامنے آئی ہے۔ جو امریکی فوجی اڈے کبھی ناقابل تسخیر قلعے سمجھے جاتے تھا، وہ اب آسان ہدف بنتے نظر آ رہے ہیں۔

سعودی عرب کے ذرائع نے سی این این کو بتایا کہ اس جنگ نے امریکہ کے سب سے پرانے عرب اتحادی سعودی عرب پر یہ واضح کر دیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ اتحاد نہ تو واحد آپشن ہے اور نہ ہی اٹوٹ۔ یعنی سلامتی کے لیے دیگر متبادلات بھی موجود ہیں اور سیکورٹی فراہم نہ کرنے کی صورت میں امریکہ کے ساتھ تعلق ٹوٹ بھی سکتا ہے۔ امریکی ٹھکانوں کی بڑھتی ہوئی عدم تحفظ کا اندازہ قطر کے العدید ایئر بیس کے وار روم سے لگایا جا سکتا ہے۔ یہ 21 ممالک میں امریکی فضائی طاقت کے آپریشنز کا مرکزی کمانڈ سنٹر ہے، جسے ایک بار نہیں بلکہ 2 بار نشانہ بنایا گیا، جس سے بھاری نقصان ہوا۔ حالانکہ اس وقت تک بیس کو کافی حد تک خالی کرا لیا گیا تھا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن اس سے یہ واضح ہو گیا کہ ایران اپنے اہداف پر کتنی درست نظر رکھ سکتا ہے۔

’فنانشیل ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق 2024 میں تہران نے خفیہ طور پر چین کا ٹی ای ای-01بی سیٹلائٹ حاصل کیا، جو اس کے پرانے سیٹلائٹس کے مقابلے میں ایک بڑا اپ گریڈ ہے۔ اس سے ایران کو کم معیار کی تصاویر کے بجائے اب ہائی ریزولوشن-امیجری حاصل ہونے لگی ہے، جو تقریباً امریکہ جیسی ہی نکھار فراہم کرتی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب امریکہ کسی ایسے حریف سے لڑ رہا ہے جس کے پاس اتنی جدید سیٹلائٹ نگرانی کی صلاحیت موجود ہے۔ اس رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی محکمہ دفاع (پنٹاگن) کے ایک افسر نے کہا کہ محکمہ دفاع نقصانات کے تخمینے پر تبصرہ نہیں کرتا، تاہم امریکی فوج اب بھی مکمل طور پر فعال ہے اور اس کی جنگی صلاحیت اور تیاریاں پہلے جیسی ہی ہیں۔ حالانکہ اصل صورتحال یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں تعینات زیادہ تر امریکی فوجیوں کو ان کے ٹھکانوں سے ہٹا لیا گیا ہے۔ اب ان میں سے کئی فوجی جزیرہ نما عرب میں ہوٹلوں اور اپارٹمنٹس جیسے نسبتاً محفوظ مقامات سے کام کر رہے ہیں۔


Share: