بھٹکل، 10 جون (ایس او نیوز): مینگلور کے قریب بنٹوال تعلقہ کے کُوکّاجی علاقے کے رہائشی اور کاسرکوڈ کی محی الدین جامع مسجد کے معلمِ قرآن مولانا عبدالطیف مدنی کی اپنے آبائی علاقے کُوکّاجی میں تدفین عمل میں آئی۔ نمازِ جنازہ اور تدفین میں علما، مقامی عوام، رشتہ داروں اور عقیدت مندوں سمیت سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔
واضح رہے کہ مولانا عبدالطیف مدنی کا منگل کو کاسرکوڈ کی محی الدین جامع مسجد میں عصر کی اذان دیتے ہوئے اچانک انتقال ہوگیا تھا۔ مسجد میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں میں محفوظ مناظر کے مطابق وہ اذان کے دوران کلماتِ شہادت ادا کر رہے تھے کہ اچانک ان کی طبیعت بگڑ گئی۔ وہ اذان مکمل نہ کر سکے اور نیچے بیٹھ گئے۔ مسجد میں موجود افراد فوری طور پر ان کی مدد کے لیے پہنچے اور انہیں قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں پہنچنے پر ڈاکٹروں نے ان کے انتقال کی تصدیق کردی۔"إنا لله وإنا إليه راجعون"


مسجد کے صحن میں ہی میت کو غسل دینے اور تجہیز و تکفین کے انتظامات مکمل کرنے کے بعد عشاء کی نماز کے فوراً بعد محی الدین جامع مسجد میں نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ بعد ازاں رات قریب نو بجے میت کو ان کے آبائی گاؤں کُوکّاجی روانہ کیا گیا، جہاں بدھ کی صبح قریب دو بجے تدفین عمل میں آئی۔
مولانا عبدالطیف مدنی کے اچانک انتقال کی خبر سے علاقے میں غم کی لہر دوڑ گئی، جبکہ اذان کے دوران پیش آنے والے اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر گردش کر رہی ہے۔