نئی دہلی ، 12 /ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی )الٰہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اتل شری دھرن گزشتہ تقریباً دس ماہ کے دوران اپنے متعدد اہم فیصلوں اور ریاستی طاقت کے استعمال پر سخت سوال اٹھانے والے احکامات کے باعث عدالتی حلقوں میں نمایاں ہوئے ہیں۔ ان کے فیصلوں میں شہری آزادی، مذہبی آزادی، این ایس اے کے تحت حراست، بلڈوزر کارروائی، حراستی موت، ٹرانس جینڈر افراد کے حقوق اور عدالتی و قانونی نظام میں جواب دہی جیسے معاملات شامل ہیں۔ یاد رہے کہ جسٹس شری دھرن کی الہ آباد ہائی کورٹ منتقلی بھی ابتدا میں عدالتی حلقوں میں بحث کا موضوع بنی تھی۔ جسٹس اتل شری دھرن نے ۹۰ءکی دہائی میں دہلی میں سینئر ایڈوکیٹ گوپال سبرامنیم کےماتحت وکالت شروع کی تھی۔ بعد میں انہوں نے اندور منتقل ہوکر مدھیہ پردیش حکومت کے پینل کونسل کے طور پر بھی کام کیا۔ ۲۰۰۵ء سے ۲۰۱۳ءکے درمیان وہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں مرکزی حکومت کی نمائندگی کرتے رہے۔ ۲۰۱۶ء میں انہیں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا گیا اور ۲۰۱۸ءمیں مستقل جج بنایا گیا۔ اگر انہیں سپریم کورٹ میں ترقی نہیں ملتی تو ان کاریٹائرمنٹ مئی ۲۰۲۸ء میں متوقع ہے۔
۲۰۲۳ء میں جسٹس شری دھرن نے جموں کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ منتقل کئے جانے کی درخواست کی تھی تاکہ ان کی بیٹی اندور میں پریکٹس کرسکے۔ اس درخواست کو اس وقت کے چیف جسٹس کی سربراہی والے کولیجیم نے منظور کرلیا تھا، تاہم مارچ۲۰۲۵ء میں انہیں دوبارہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ بھیج دیا گیا، جہاں وہ سینئرٹی کے اعتبار سے کولیجیم میں شامل ہونے کی پوزیشن میں تھے۔ بعد میں ۲۰۲۵ء میں ان کا نام چھتیس گڑھ ہائی کورٹ منتقلی کے لئےبھی تجویز کیا گیا، جہاں وہ کولیجیم کا حصہ بن سکتے تھے، لیکن حکومت کی جانب سے غور کے بعد انہیں الہ آباد ہائی کورٹ منتقل کردیا گیا، جہاں وہ سینئر ججوں میں شامل نہیں تھے۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ پہنچنے کے بعد جسٹس شری دھرن کے کئی فیصلوں میں ریاستی طاقت کے استعمال اور شہری آزادیوں کے تحفظ پر خاص توجہ نظر آئی۔ تازہ ترین نمایاں فیصلوں میں نوئیڈا میںاحتجاج سے متعلق آکرتی چودھری کی قومی سلامتی ایکٹ کے تحت حراست ختم کرنے کا حکم شامل ہے۔ عدالت نے نہ صرف حراست کو منسوخ کردیا بلکہ ضلع انتظامیہ کے طرز عمل پر سخت سوال اٹھاتے ہوئے معاوضے کا حکم بھی دیا۔
مارچ ۲۰۲۶ء میں جسٹس شری دھرن کی سربراہی والی بنچ نے نماز سے متعلق ایک اہم معاملے کی سماعت کی۔ معاملہ مناظر خان کا تھا جنہیں سنبھل میں پولیس اور انتظامیہ نے امن و امان کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی ہی پراپرٹی پر نماز ادا کرنے سے روک دیا تھا۔ ریاستی حکومت نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ نماز کی اجازت صرف ۲۰؍ افراد تک محدود تھی اور یہ پابندی امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری تھی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں مقامی انتظامیہ، خصوصاً پولیس سپرنٹنڈنٹ اور ضلع کلکٹر کے کردار پر سخت ریمارکس دئیے تھے جس سے یوپی کی یوگی حکومت کی بھی خاصی سبکی ہوئی تھی۔
الٰہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اتل شری دھرن نے ۹۰ءکی دہائی میں دہلی میں سینئر ایڈوکیٹ گوپال سبرامنیم کےماتحت وکالت شروع کی تھی۔ بعد میں انہوں نے اندور منتقل ہوکر مدھیہ پردیش حکومت کے پینل کونسل کے طور پر بھی کام کیا۔ ۲۰۰۵ء سے ۲۰۱۳ءکے درمیان وہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں مرکزی حکومت کی نمائندگی کرتے رہے۔ ۲۰۱۶ء میں انہیں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا گیا اور ۲۰۱۸ءمیں مستقل جج بنایا گیا۔ اگر انہیں سپریم کورٹ میں ترقی نہیں ملتی تو ان کاریٹائرمنٹ مئی ۲۰۲۸ء میں متوقع ہے۔