بنگلورو، 12 /ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی) کرناٹک میں جاری خصوصی انتخابی نظرثانی کے دوران ووٹر فہرست کی جانچ کے طریقۂ کار سے متعلق ایک اور معاملہ سامنے آیا ہے۔ بیٹارایان پور اسمبلی حلقہ کے ترہونسے علاقے کی رہنے والی ووٹر اناپورنا ایم کو انتخابی حکام کی جانب سے نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ نوٹس میں مبینہ طور پر ان کے اور سابقہ انتخابی نظرثانی میں درج ان کے دادا کے درمیان عمر کے فرق کو بنیاد بناتے ہوئے میپنگ میں تضاد کی نشاندہی کی گئی ہے۔
اناپورنا ایم کے مطابق وہ بنگلورو شمالی تعلقہ کے ترہونسے علاقے میں رہتی ہیں اور حصہ نمبر 3، اسٹون ہل سرکاری اسکول کے تحت ووٹر فہرست میں ترتیب نمبر 603 پر درج ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انتخابی حکام کی ہدایات کے مطابق انہوں نے اپنے والد مونی چنّپا کی تفصیلات کے ساتھ مناسب میپنگ کی اور مطلوبہ دستاویزات کے ساتھ اندراجی فارم متعلقہ بوتھ سطح کے افسر کے حوالے کیا تھا۔ ان کا نام مسودہ ووٹر فہرست میں بھی شامل تھا۔
تاہم بعد میں انہیں انتخابی حکام کی جانب سے نوٹس موصول ہوا۔ نوٹس میں دی گئی وجہ کے مطابق سابقہ خصوصی انتخابی نظرثانی کے دوران استعمال ہونے والی ان کے دادا یا دادی کی تفصیلات اور اناپورنا کی عمر کے درمیان فرق 40 سال سے کم ہونے کی وجہ سے میپنگ کو درست نہ ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ انہیں 11 ستمبر کو اصل دستاویزات کے ساتھ متعلقہ سماعتی افسر کے سامنے حاضر ہونے کی ہدایت دی گئی۔
اناپورنا ایم نے ایک مقامی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں مبینہ طور پر کہا کہ ان کے پاس تمام ضروری دستاویزات موجود ہیں اور انہوں نے ضابطے کے مطابق اپنے والد کے نام کے ساتھ میپنگ کرکے اندراجی فارم بوتھ سطح کے افسر کو جمع کرایا تھا۔ ان کے مطابق اگر انتخابی نظام کی جانب سے ان کا نام خودکار طور پر ان کے دادا کے نام سے جوڑا گیا ہے تو بھی نوٹس میں عمر کے فرق کو بنیاد بنانا درست معلوم نہیں ہوتا، کیونکہ ان کے اور ان کے دادا کے درمیان عمر کا فرق 40 سال سے زیادہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ درست دستاویزات کی موجودگی کے باوجود تکنیکی جانچ کی بنیاد پر انہیں سماعت کے لیے طلب کیا جانا باعثِ تشویش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر نظام میں میپنگ سے متعلق کوئی تکنیکی مسئلہ پیدا ہوا ہے تو اس کا بوجھ ووٹر پر ڈالنے کے بجائے متعلقہ ریکارڈ اور دستاویزات کی بنیاد پر معاملے کی جانچ کی جانی چاہیے۔
اس معاملے نے خصوصی انتخابی نظرثانی کے دوران خودکار اور تکنیکی جانچ کے طریقۂ کار پر سوالات کو مزید نمایاں کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ریاست کے مختلف علاقوں میں بعض ووٹروں کو نام، عمر، سابقہ ووٹر فہرست اور دیگر تفصیلات کے درمیان مبینہ تضاد کی بنیاد پر نوٹس جاری کیے جارہے ہیں۔ تاہم ہر معاملے کی نوعیت الگ ہوسکتی ہے اور نوٹس جاری ہونا بذاتِ خود ووٹر کے نام کے اخراج یا کسی حتمی فیصلے کا ثبوت نہیں ہے۔
اناپورنا ایم کے معاملے میں بھی اصل دستاویزات کی جانچ اور سماعت کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ ریکارڈ میں موجود مبینہ تضاد کی اصل وجہ کیا ہے۔ خصوصی انتخابی نظرثانی کے عمل میں درست ووٹروں کے حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ریکارڈ کی درستگی یقینی بنانا بھی انتخابی انتظامیہ کی اہم ذمہ داری ہے۔