ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / پریانک کھرگے کی مرکز پر تنقید، خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی پر اٹھائے سنگین سوالات

پریانک کھرگے کی مرکز پر تنقید، خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی پر اٹھائے سنگین سوالات

Sat, 12 Sep 2026 11:45:00    S O News

بنگلورو ، 12 /ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی )وزیر داخلہ، اطلاعات، حیاتیاتی ٹیکنالوجی اور ای حکمرانی پریانک کھرگے نے مرکزی حکومت کی خارجہ پالیسی پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ملک کی خارجہ پالیسی متوقع سمت میں آگے نہیں بڑھ سکی۔ ان کے مطابق مرکزی حکومت ملک کے معاشی اور تزویراتی مفادات کے تحفظ میں ناکام رہی ہے اور عالمی سطح پر ہندوستان کا موقف کئی معاملات میں غیر واضح دکھائی دیتا ہے۔

اپنی رہائش گاہ کے قریب جمعہ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پریانک کھرگے نے برکس سربراہی اجلاس کے پس منظر میں مرکزی حکومت کی خارجہ پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران حکومت کی جانب سے کیے گئے دعووں اور موجودہ زمینی صورتحال میں نمایاں فرق نظر آتا ہے۔

انہوں نے روس سے کم قیمت پر خام تیل کی خریداری کے معاملے میں امریکی دباؤ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے سامنے اپنے مفادات کے مطابق فیصلہ کرنے کے بجائے دباؤ میں آنے کی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ دوسری جانب چین کے ساتھ مذاکرات جاری رہنے کے باوجود سرحدی معاملات میں ہندوستان کے مفادات متاثر ہونے کے الزامات سامنے آرہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ چینی ایپلی کیشنز اور اشیا پر پابندیاں عائد کرنے کے بعد بھی متعدد معاملات میں مرکزی حکومت اپنے سابقہ موقف سے پیچھے کیوں ہٹ رہی ہے۔

پریانک کھرگے نے کہا کہ مرکزی حکومت نے برکس کے پلیٹ فارم پر ہندوستانی روپے کو مضبوط بنانے اور اسے عالمی سطح پر لین دین کے قابل کرنسی بنانے کے دعوے کیے تھے، لیکن موجودہ صورتحال میں روپے کی قدر میں مسلسل کمی اور ڈالر کے مقابلے میں اس کے نئی کم ترین سطحوں تک پہنچنے سے اقتصادی پالیسی کی تاثیر پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

چین کے ساتھ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے پریانک کھرگے نے کہا کہ مرکزی حکومت کے موقف پر بھی کئی سنجیدہ سوالات موجود ہیں۔ ہندوستان اور چین کے وزرائے اعظم کے درمیان گجرات میں ملاقات سے لے کر مہابلی پورم میں ہونے والی بات چیت تک متعدد مواقع پر مذاکرات ہوئے، تاہم ان کے بعد بھی سرحدی علاقوں میں حالات بہتر ہونے کے بجائے ہندوستان کے زیر دعویٰ علاقوں میں چین کی سرگرمیوں میں اضافے کے الزامات سامنے آرہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستانی فوج کے لیے اہم گشتی علاقوں سے متعلق بھی سوالات اٹھے ہیں۔ ایسے وقت میں جب سرحدی علاقوں میں چین اپنے اثر و رسوخ کو وسعت دینے کی کوشش کررہا ہے، مرکزی حکومت کو واضح اور مضبوط موقف اختیار کرنا چاہیے تھا۔ ملک کی سلامتی اور خودمختاری سے متعلق معاملات میں کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔

پریانک کھرگے نے کہا کہ ایک طرف مرکزی حکومت دشمن ممالک کے معاملے میں سخت موقف اختیار کرنے کا دعویٰ کرتی ہے، جبکہ دوسری جانب ایک بڑی معاشی طاقت کے ساتھ براہ راست تنازع سے بچنے کے لیے محتاط رویہ اختیار کرنے سے متعلق مرکزی وزیر خارجہ کے بیانات خارجہ پالیسی میں تضاد کو ظاہر کرتے ہیں۔

قومی سلامتی سے متعلق سیاسی بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے سوال کیا کہ ’56 انچ کا سینہ‘ کا سیاسی نعرہ صرف کانگریس کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے یا اسے ملک کے مخالفین کو بھی ہندوستان کی طاقت دکھانے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی سرحدوں، فوج کی سلامتی اور قومی مفادات سے متعلق معاملات میں مرکزی حکومت کو اپنا موقف واضح طور پر ملک کے سامنے رکھنا چاہیے۔ محض سیاسی نعروں اور تشہیر سے قومی سلامتی یقینی نہیں بنائی جاسکتی۔

وندے ماترم گیت کے حوالے سے جاری بحث پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پریانک کھرگے نے سوال کیا کہ ملک کے قومی گیت یا حب الوطنی کی علامتوں کو کس طرح پیش کیا جائے، اس کا فیصلہ کرنے کا اختیار کیا صرف بی جے پی کے پاس ہے؟

انہوں نے کہا کہ سردار ولبھ بھائی پٹیل، جواہر لال نہرو، مہاتما گاندھی اور نیتاجی سبھاش چندر بوس سمیت آزادی کی جدوجہد کے اہم رہنماؤں نے ملک میں قومی جذبے کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان رہنماؤں کی خدمات کو نظر انداز کرکے بی جے پی اپنے معیارات ملک پر مسلط نہیں کرسکتی۔

پریانک کھرگے نے مزید سوال اٹھایا کہ آزادی کی جدوجہد میں بی جے پی کی نظریاتی پس منظر رکھنے والی تنظیموں کا کیا کردار تھا۔ انہوں نے بی جے پی سے وضاحت طلب کی کہ نیتاجی سبھاش چندر بوس کی جانب سے برطانوی حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کے لیے فوج منظم کیے جانے کے دوران آر ایس ایس اور وینائک دامودر ساورکر کا کیا کردار تھا۔

انہوں نے کہا کہ برکس سربراہی اجلاس کے دوران ملک کی معیشت، روپے کی قدر، چین کے ساتھ تعلقات، سرحدی سلامتی اور عالمی سطح پر ہندوستان کی تزویراتی حیثیت جیسے اہم معاملات پر مرکزی حکومت کو اپنی پالیسی اور موقف واضح کرنے کی ضرورت ہے۔


Share: