کولکاتہ ، 12/اپریل (ایس او نیوز /ایجنسی) مغربی بنگال اسمبلی انتخابات سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی اوروزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی ریلیاں زور وشور سے جاری ہیں جن میں دونوں لیڈروں نے ایک دوسرے کو نشانہ بنایا ہے اورچیلنج کیا ہے۔وزیر اعظم مودی نے سنیچر کو مغربی بنگال کےمشرقی وردھمان ضلع کے کٹوا اور مرشد آباد ضلع کے جنگی پور میں انتخابی ریلیوں سے خطاب کیاجبکہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ضلع جھارگرام میں ا نتخابی جلسے سے مخاطب ہوئیں۔ مشرقی وردھمان میں وزیر اعظم نے کہا’’بنگال تبدیلی کیلئے تیار ہے۔ مودی کی گارنٹی ٹی ایم سی کی بے رحم حکومت کے خوف کو بھروسے سے بدلنے کی ہے۔‘‘مرشد آباد میں مودی نے کہا’’آزادی کے بعد سے جس نے بنگال کو چیلنج کرنے کی ہمت کی، اس کا تکبر چکنا چور ہوگیا ۔ پہلے انگریزوں کا گھمنڈ، پھر کانگریس کاغرور اور آخر میں بائیں بازو کا ۔ اب بنگال کے لوگ ٹی ایم سی کے گھمنڈ کو چکنا چور کر دیں گے۔‘‘
مودی نے کہا ’ماں، مٹی، مانش ‘ کے نعرے سے متاثر بنگال کے لوگوں نے بڑی امید اور جوش کے ساتھ ٹی ایم سی کو موقع دیا، لیکن اقتدار میں آتے ہی ٹی ایم سی بائیں بازو کی کاربن کاپی بن گئی۔وزیر اعظم نے کہا’’بائیں بازو سے وابستہ تمام غنڈے اور گینگ ترنمول میں شامل ہو گئے ہیں۔ ٹی ایم سی نے اب ہر چیز پر قبضہ کر لیا ہے، ہتھیاروں، منشیات اور مویشیوں کی اسمگلنگ سے لے کر کٹوتیوں اور کمیشنوں تک، جو کبھی بائیں بازو کی پہچان ہوا کرتے تھے ۔
دوسری طرف وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے جھارگرام میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے بی جے پی کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا’’بی جے پی بنگال مخالف اور باہری لوگوں کے خلاف ہے، انہیں اپنے گھر میں داخل نہ ہونے دیں۔‘‘ مغربی مدناپور کے کیشیاری میں ایک انتخابی ریلی کے دوران، وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا’’بھوانی پور سے میری امیدواری رد کرنے کیلئے دو جھوٹے حلف نامے داخل کیے گئے، وہ ایسا نہیں کر سکے، لیکن تصور کریں کہ اگر وہ میرے ساتھ ایسا کر سکتے ہیں تو دوسروں کے ساتھ کیا نہیں کر سکتے ۔‘‘
وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اسٹیج پر موجود پارٹی لیڈروں سے ووٹنگ مشینوں کو چیک کرنے کی بھی اپیل کی۔انہوں نے کہا کہ ووٹنگ سے پہلے ای وی ایم کی جانچ کی جانی چاہئے اور اگر کوئی مشین خراب نظر آتی ہے تو اسے فوری طور پر تبدیل کرنے کا مطالبہ کرنا چاہئے۔ممتا نے بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایس آئی آر کے دوران ۲۵۰؍افراد کی موت ہوئی اور۹۰؍ لاکھ نام ہٹائے گئے، بی جے پی بنگال مخالف ہے۔
اس دوران وزیر داخلہ امیت شاہ نے مغربی بنگال کے بانکورہ اور ڈیبرا میں عوامی ریلیوں سے خطاب کیا اور وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نیزترنمول کانگریس پرسخت تنقید کی۔ انہوں نےآر جی کرواقعےکا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس نے پوری دنیا کی نظروں میں بنگال کی شبیہ کو داغدار کیا ہے۔ برسوں سے، ٹی ایم سی کے غنڈے سندیش کھالی (شمالی۲۴؍ پرگنا) میں خواتین کا استحصال کر رہے ہیں۔ ان دراندازوں نے خواتین کا استحصال کیالیکن ممتا بنرجی نے آنکھیں موند لیں اور خاموش رہیں۔ممتا دیدی شکار کا کارڈ کھیل رہی ہیں۔ کبھی وہ پیروںپر پٹی باندھتی ہیں، کبھی سر پر۔ ممتا دیدی، آپ جہاں چاہیں اپنے پیروں پر، بازو یا سر پر پٹی باندھ سکتی ہیں لیکن بنگال کے لوگ آپ کو ووٹ نہیں دیں گے۔شاہ نے کہا کہ پچھلے کچھ سال میں بی جے پی کے ۳۰۰؍سے زیادہ کارکنوں کو قتل کیا جا چکا ہے۔۵؍مئی کے بعد جب بی جے پی حکومت بنائے گی تو ہمارے کارکنوں کے قتل کے ذمہ داروں کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جائے گا۔