تل ابیب ، 13/ اپر یل (ایس او نیوز /ایجنسی) اسرائیل کے اپوزیشن لیڈروں نے وزیر اعظم نیتن یاہو کے ایران کے خلاف جنگ میں اسرائیل کے اہداف کے بارے میں دعوؤں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’وہ جنگ کے ان مقاصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہے جو انہوں نے خود طے کیے تھے۔‘‘ ڈیموکریٹس پارٹی کے لیڈریائیر گولان نے سنیچرکو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’’جب آپ فتح یاب اور کامیاب ہوتے ہیں، تو آپ کو ہر چند روز بعد یہ اعلان کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ آپ فتح یاب اور کامیاب ہو گئے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ’’ وقت آگیا ہے کہ نیتن یاہو اور ان کی حکومت کو گھر بھیجا جائے۔نیتن یاہو دباؤ میں ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جنگ (ایران کے خلاف) کے اہداف حاصل نہیں ہوئے۔‘‘
جبکہ اپوزیشن لیڈر یائیر لاپیڈ نے بھی ایسے ہی تبصرے کرتے ہوئے کہا، ’’نیتن یاہو ایک بار پھر فوج کی کامیابیوں پر فخر کر رہے ہیں، تاکہ ہم ان کی مکمل ناکامی کو بھول جائیں۔‘‘ انہوں نے ایکس پر یہ بات کہی۔لاپیڈنے مزید کہا، ’’انہوں نے جنگ کے ان میں سے کوئی بھی مقصد حاصل نہیں کیا جو انہوں نے خود طے کیے تھے۔‘‘
واضح رہے کہ یہ تنقید ان دنوں سامنے آئی جب اپوزیشن نے جنگ بندی کو’’ اسٹریٹجک ناکامی‘‘ قرار دیتے ہوئے نیتن یاہو کو نشانہ بنایا۔یہ بھی یاد رہے کہ اسرائیل نے ایران کے ساتھ امریکی جنگ بندی کی حمایت کی، لیکن اصرار کیا کہ اس میں لبنان شامل نہیں ہے۔بعد ازاں اسرائیلی وزیر اعظم نے لبنان میں مزید حملوں کی دھمکی دی، کہا کہ اسرائیل صرف اس صورت میں مذاکرات پر راضی ہو گا جب حزب اللہ کو غیر مسلح کر دیا جائے اور ایک پائیدار امن معاہدہ طے پائے۔دریں اثناءمسلسل فوجی کارروائی پر خبردار کرتے ہوئے، نیتن یاہو نے کہا کہ جنگ ’’ابھی ختم نہیں ہوئی،‘‘ اور دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے ’’زبردست کامیابیاں‘‘ حاصل کی ہیں۔
ذہین نشین رہے کہ ۲؍ مارچ سے لبنان کے خلاف اسرائیل کی بڑے پیمانے پر جارحیت میں ۲۰۲۰؍افراد ہلاک اور۶۴۳۶؍ زخمی ہو چکے ہیں۔