منگلورو31، / اکتوبر(ایس او نیو) دکشن کنڑا کی سیکولر سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کے مشترکہ فورم کی جانب سے ایس آئی آر کے خلاف ایک زبردست عوامی مارچ کا اہتمام کیا گیا جس کی قیادت سماجی جہد کار اور اداکار پرکاش راج نے کی ۔
یہ مارچ امبیڈکر (جیوتی) سرکل سے شروع ہو کر منگلورو کے کلاک ٹاور کی جانب بڑھا، جس میں شریک مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ 'ایس آئی آر' کو واپس لیا جائے، ووٹوں کی مبینہ چوری کا سلسلہ بند کیا جائے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹایا جائے ۔
اس عوامی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے پرکاش راج نے کہا کہ انتخابی فہرستوں کی 'اسپیشل انٹینسیو ریویژن' (SIR) کے خلاف تحریک محض ووٹنگ کے حقوق سے مبینہ محرومی کے خلاف احتجاج نہیں ہے، بلکہ یہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت کو گرانے کی ایک جدوجہد بھی ہے ۔ پرکاش راج کے مطابق بی جے پی حکومت آر ایس ایس (RSS) کے نظریات کے تحت عمل کرتی ہے اس لئے اسے شکست دینا ضروری ہے ۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے اس بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہ اپوزیشن حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کر رہی ہے، پرکاش راج نے کہا: "جی ہاں، ہم آپ کی حکومت گرانے آئے ہیں ۔ لیکن ہم نیپال، بنگلہ دیش یا پاکستان نہیں ہیں ۔ ہم ووٹ کی طاقت اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی جانب سے آئین میں ہمیں دیے گئے حقوق کا استعمال کرتے ہوئے پرامن طریقے سے یہ کام کریں گے ۔"

پرکاش راج نے الزام لگایا کہ 'ایس آئی آر' (SIR) کا معاملہ محض ووٹوں کی چوری تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ ان ووٹوں کو حذف کرنے کی کوشش ہے جن میں حالیہ انتخابات کے دوران اضافہ ہوا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ لڑائی صرف سیاسی جماعتوں کے بل بوتے پر نہیں بلکہ شہریوں کی اجتماعی طاقت سے ہی جیتی جا سکتی ہے ۔
انہوں نے وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئےکہا : " وزیر اعظم مودی! آپ زیادہ دیر تک اقتدار میں نہیں رہیں گے۔ آپ کے گناہوں کا گھڑا بھر چکا ہے ۔"
ساحلی کرناٹک کی سیاسی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے پرکاش راج نے الزام لگایا کہ ساحلی خطے کے عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے اور ان کے خدشات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا "لوگوں کو بیوقوف اور بندر بنایا جا رہا ہے، اور ان کے ذہنوں کو غلط معلومات سے بھر دیا گیا ہے ۔ دکشن کنڑ میں شعبہ صحت، معیشت اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع کا کیا حال ہے؟ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن کو کیا ہوا؟ یہ مسائل بالآخر آپ کو بھی متاثر کریں گے ۔ ہمارے نوجوان جیلوں میں ہیں، اور لوگوں کو یہ بات سمجھنی چاہیے۔"
انہوں نے سیاسی جماعتوں پر لگایا کہ وہ عوام کو محض 'ووٹنگ مشینیں' سمجھتی ہیں ۔ اسی کے ساتھ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ووٹ دینا ایک آئینی حق ہے اور حکومت کو خبردار کیا کہ وہ شہریوں سے یہ حق چھیننے کی کوشش نہ کرے ۔
سی پی ایم کے ضلعی سیکرٹری منیر کٹیپالا نے افتتاحی خطاب کیا ۔ پروگرام میں مختلف سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کے رہنماؤں نے شرکت کی، جن میں پدم راج، ایم جی ہیگڑے، دنیش ہیگڑے اولے پاڈی، لکشمیشا ڈبنالڈکا، اشرف، وی کوکیان، جینتی بی شیٹی اور شیکھر وامنجور سمیت دیگر افراد شامل تھے۔
ڈی وائی ایف آئی (DYFI) کے ضلعی صدر منوج وامنجور نے پروگرام کی نظامت کی، جبکہ سنتوش باجل نے شکریہ کے کلمات ادا کیے۔