بنگلورو، 8/مئی (ایس او نیوز /ایجنسی) ریاستی وزیر برائے دیہی ترقی و پنچایت راج اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی و بایو ٹیکنالوجی پریانک کھرگے نے کہا ہے کہ کرناٹک کو ہندوستان کے اگلے بڑے تجارتی خلائی ٹیکنالوجی مرکز کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے اور اس مقصد کے تحت اسپیس ٹیک شعبہ میں بنیادی ڈھانچے، جدید ٹیسٹنگ سہولتوں، مینوفیکچرنگ اور اسٹارٹ اپس کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
وہ بنگلورو میں منعقدہ اسپیس ٹیک صنعت سے متعلق اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے، جس میں اسٹارٹ اپس، تعلیمی اداروں، صنعتوں اور مختلف سائنسی و تحقیقی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
پریانک کھرگے نے کہا کہ کرناٹک کی “ڈیپ ٹیک دہائی” حکمت عملی کے تحت اسپیس ٹیک ایک اہم ستون بن چکا ہے۔ ریاست میں اختراعات، جدید مینوفیکچرنگ، ڈیٹا ٹیکنالوجی اور خلائی خدمات کے مختلف شعبوں میں غیر معمولی صلاحیت موجود ہے، جس کی بنیاد پر کرناٹک ملک کی خلائی معیشت میں قائدانہ کردار ادا کرسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشترکہ جانچ اور تصدیقی مراکز کے قیام سے اسٹارٹ اپس اور چھوٹی صنعتوں کو بڑی سہولت ملے گی، پیداواری عمل تیز ہوگا اور نئی مصنوعات کو جلد تجارتی سطح تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔ ان کے مطابق خلائی ڈیٹا اب زراعت، موسمیاتی تبدیلی، لاجسٹکس، قدرتی آفات کے انتظام اور حکمرانی جیسے شعبوں میں بھی بنیادی اہمیت اختیار کرچکا ہے۔
اجلاس میں ریاست میں “اسمبلی، انٹیگریشن اینڈ ٹیسٹنگ” سہولت قائم کرنے پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ بتایا گیا کہ بنگلورو کے اطراف مناسب اراضی کی نشاندہی کے بعد عوامی و نجی اشتراک کے تحت جدید ٹیسٹنگ مراکز قائم کرنے کا عمل جلد شروع کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ سرکاری اداروں، صنعتوں اور تعلیمی مراکز میں موجود ٹیسٹنگ سہولتوں کو اسٹارٹ اپس کے لیے قابل رسائی بنانے پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
اجلاس میں اسپیس مینوفیکچرنگ پارکس، صنعتی کلسٹرز، چھوٹی و درمیانی صنعتوں کی شمولیت اور نوجوانوں کو صنعت سے مربوط تربیت فراہم کرنے جیسے موضوعات پر بھی گفتگو کی گئی۔
محکمہ اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی سکریٹری ڈاکٹر این منجولا نے کہا کہ کرناٹک خلائی پالیسی کا مسودہ جاری کرنے والا ملک کا پہلا صوبہ ہے، جو ریاست کے طویل مدتی وژن اور خلائی شعبہ میں عالمی سطح پر مسابقتی نظام قائم کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
اجلاس میں مختلف خلائی ٹیکنالوجی کمپنیوں، تحقیقی اداروں، تعلیمی تنظیموں اور سرکاری ایجنسیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔