لکھنؤ، 12 /ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی )سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں واقع ۱۰۰؍سال سےزائد قدیم تاریخی اہمیت کی حامل مسجد کی شہادت کے معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ نے اترپردیش کی یوگی حکومت کو نوٹس جاری کردیا ہے اور اس سے تین ہفتے کے اندر جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے مسجد انتظامیہ پر عائد ۶ء۴۱؍ کروڑ روپے کی جرمانے کی وصولی پر بھی روک لگاتے ہوئے معاملے کی اگلی سماعت کے لئے ۱۲؍ اکتوبرکی تاریخ مقررکی ہے۔یہ حکم جسٹس روہت رنجن اگروال کی عدالت نے ایڈوکیٹ محمد تنویر احمد کی جانب سے دائر رِٹ پٹیشن پر دیا۔
عرضی میں سہارنپور کے سٹی مجسٹریٹ کے ۱۶؍ جولائی کے حکم اور سہارنپور کے ضلع جج کے ۲؍ ستمبر کے حکم کو چیلنج کیا گیا ہے۔ مقدمے میں اترپردیش حکومت ، ضلع مجسٹریٹ سہارنپور اور مسجد کے منیجرمولوی عبدالحمید کو فریق بنایا گیا ہے۔ سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں واقع مسجد کے انہدام کے خلاف دائر عرضی پر جمعہ کو اترپردیش حکومت سے تین ہفتے کے اندر جوابی حلف نامہ داخل کرنے کو کہا ہے۔ یاد رہے کہ سٹی مجسٹریٹ نے اترپردیش پبلک پریمسز (ایویکشن اینڈ اَن آتھرائزڈ آکیوپنٹس) ایکٹ ۱۹۷۲ء کے تحت ۱۶؍ جولائی کو جاری حکم میں کلکٹریٹ احاطے میں واقع ۳۱۵؍ مربع میٹر رقبے کی مسجد کو منہدم کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اس کے ساتھ ہی سٹی مجسٹریٹ نے مسجدانتظامیہ پر ۶ء۴۱؍ کروڑ روپے کا بھاری بھرکم جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔
اس حکم کے خلاف ضلع عدالت میں اپیل دائر کی گئی تاہم ضلع جج نے ۲؍ ستمبر کو اپیل مسترد کردی۔ اس کے بعد انتظامیہ نے چوری چھپے اور رات کے اندھیرے میں ۵؍ ستمبر کو مسجد کو منہدم کردیا۔عرضی گزار کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ آشیش کمار سنگھ نے عدالت میں دلیل دی کہ بے دخلی اور انہدام کا حکم جائیداد کی ملکیت کا تعین کئے بغیر جاری کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ جائیداد کے ریکارڈ میں واحد خان اور یعقوب خان کے نام درج رہے ہیں، جس پر حکام نے مناسب غور نہیں کیا۔عرضی گزار کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ مذکورہ مسجداترپردیش سنی سینٹرل وقف بورڈ میں درج ہے، تاہم حکام اور مقامی عدالت نے اس پہلو پر بھی مناسب غور نہیں کیا۔
دوسری جانب ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل منیش گوئل نے عرضی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ خود عرضی گزار نے مسجد کو وقف جائیداد قرار دیا ہے لیکن سنی سینٹرل وقف بورڈ کو مقدمے میں فریق نہیں بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عرضی گزار کا موقف متضاد ہے، کیونکہ ایک طرف جائیداد کو زمیندار کی ملکیت بتایا گیا ہے اور دوسری طرف اسے وقف جائیداد قرار دیا گیا ہے، جبکہ وقف کے لئے جائیداد وقف کئے جانے سے متعلق کوئی واضح دستاویز پیش نہیں کی گئی۔سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ متعلقہ جائیداد ریکارڈ میں’کلکٹریٹ کچہری‘ کے نام درج ہے ۔ مقامی عدالت نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ برطانوی دور میں زمین وفاقی حکومت کی ملکیت تھی اور بعد میں ریاست کو منتقل ہوگئی۔
مسجد کی شہادت کے بعد اس کا ملبہ ضلع ہیڈکوارٹر سے تقریباً ۱۰؍کلومیٹر دور مختلف مقامات پر پھینک دیا گیا تھا۔ اس کے بعد انبالہ روڈ پر بڑی نہر سے قبل قبرستان کے باہر پڑے ملبہ کو دیکھنے کیلئے کچھ مسلم افراد وہاں پہنچے۔ لوگوں نے جب ملبہ کو غور سے دیکھا تو کچھ اینٹوں پر۱۹۱۱ء اور کچھ پر۱۹۰۹ء لکھا دکھائی دیا۔ کچھ لوگوں نے ان اینٹوں کا ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر بھی ڈال دیا جس سے ایک نئی ہلچل مچ گئی۔ملبہ سے اینٹیں اٹھانے کے ویڈیو وائرل ہونے کے بعد انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دیر شب جے سی بی کی مدد سے انبالہ روڈ پر قبرستان کے باہر پڑے ملبہ کو ہٹوا دیا۔ بعد ازاں اسے دہلی روڈ پر مقرر ایک جگہ ڈال دیا گیا۔