کولکاتہ، 11/اپریل (ایس او نیوز /ایجنسی) مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات 2026 کے لیے انتخابی مہم اپنے شباب پر پہنچ گئی ہے۔ اس سلسلے میں سیاسی پارٹیوں کے درمیان ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کے لیے الزام تراشیوں کا دوربھی جاری ہے۔ اسی دوران مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے ایک بار پھرمغربی بنگال میں دراندازی کا معاملہ اٹھاکر اس کے لیے ممتا حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ وہیں ٹی ایم سی کے سینئر لیڈر اور لوک سبھا ایم پی ابھیشیک بنرجی نے امت شاہ کو سخت نشانہ بنایا ہے۔ انہوں بنگلہ دیش سے دراندازی پر شاہ کے تبصروں پر جوابی حملہ کرتے ہوئے بنگلہ دیش کی معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ کا بھی ذکر کیا۔
ابھیشیک بنرجی نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ واضح کریں کہ کیا بنگلہ دیش کی معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ کو درانداز کہا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی ابھیشیک بنرجی نے پہلگام اور نئی دہلی میں گزشتہ سال ہوئے دہشت گردانہ حملوں کو روکنے میں ناکام رہنے میں وزارت داخلہ کے کردار پر بھی سنگین سوال اٹھائے۔
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کو لے کر ریاست میں جاری سیاسی سرگرمیوں کے درمیان ٹی ایم سی لیڈر ابھیشیک بنرجی نے جمعہ کو کولکتہ میں ایک پریس کانفرنس کی۔ جس میں انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے یہ واضح کرنے کا مطالبہ کیا کہ کیا شیخ حسینہ کو درانداز کہا جانا چاہئے جنہیں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) زیرقیادت مرکزی حکومت نے پناہ دی ہے۔
دراندازوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے اور انہیں کونے کونے سے تلاش کرنے کے امت شاہ کے دعوے کا حوالہ دیتے ہوئے ابھیشیک بنرجی نے الزام لگایا کہ مرکزی وزیر داخلہ بار بار ایک ہی بات کو دہرا رہے ہیں اور اس معاملے پرغلط معلومات پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم دراندازی کی بات کریں تو بنگلہ دیش کی معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ کی صورتحال پر کیا کہا جائے گا، جو گزشتہ ڈیڑھ سال سے ہندوستان میں رہ رہی ہیں؟ کیا وہ بنگلہ دیشی درانداز ہیں؟