نئی دہلی/کولکاتا، 2 مئی (ایس او نیوز): مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے پس منظر میں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور ان کی پارٹی ترنمول کانگریس (TMC) کی جانب سے الیکشن کمیشن کے خلاف دائر درخواست پر سنیچر کو سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے فوری مداخلت سے گریز کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے موقف پر اعتماد ظاہر کیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، ترنمول کانگریس نے اپنی درخواست میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کے اُس فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس کے تحت ووٹوں کی گنتی کے عمل میں مرکزی حکومت اور پبلک سیکٹر کے ملازمین کو بطور سپروائزر تعینات کیا جانا تھا۔ پارٹی نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اس سے انتخابی عمل کی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس معاملے میں کوئی عبوری حکم جاری نہیں کیا اور کہا کہ الیکشن کمیشن کو ووٹوں کی گنتی کے عمل کو منظم کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
عدالت نے یہ موقف بھی اختیار کیا کہ جب الیکشن کمیشن نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تمام قواعد و ضوابط کے مطابق شفاف طریقے سے گنتی کی جائے گی تو اس مرحلے پر عدالتی مداخلت ضروری نہیں ہے۔
اس طرح عدالت نے بالواسطہ طور پر الیکشن کمیشن کے جاری کردہ سرکلر کو برقرار رکھا اور ترنمول کانگریس کو فوری ریلیف نہیں دیا۔
یاد رہے کہ یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مغربی بنگال میں انتخابی ماحول پہلے ہی شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ ترنمول کانگریس کی جانب سے ای وی ایم (EVM) کی سیکیورٹی، اسٹرونگ رومز میں مبینہ بے ضابطگیوں اور سی سی ٹی وی بند ہونے جیسے الزامات بھی سامنے آئے ہیں، جنہیں بی جے پی نے مسترد کیا ہے۔
اسی دوران الیکشن کمیشن نے بعض حلقوں میں ’’جمہوری عمل کو متاثر کرنے والی سنگین خلاف ورزیوں‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے دوبارہ پولنگ کے احکامات بھی جاری کیے، جس سے صورتحال کی حساسیت مزید واضح ہوتی ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے الیکشن کمیشن پر اعتماد ظاہر کیے جانے کو لے کر بعض بنگالی میڈیا کے تجزیوں میں اس فیصلے کو ووٹوں کی گنتی سے قبل ترنمول کانگریس کے لیے ایک سیاسی دھچکا قرار دیا گیا ہے۔ کئی بنگالی میڈیا اداروں نے یہ بھی اجاگر کیا ہے کہ ٹی ایم سی کی جانب سے شفافیت کے حوالے سے اٹھائے گئے خدشات، بالخصوص ای وی ایم اور ووٹوں کی گنتی کے عمل کو لے کر، بدستور برقرار ہیں۔