چنئی ، یکم نومبر (ایس او نیوز /ایجنسی)تمل ناڈو حکومت نے 5 سالہ شہری ترقیاتی پروگرام نافذ کرنے کا حکم جاری کیا ہے، جس پر تقریباً 1.50 لاکھ کروڑ روپے خرچ ہونے کا تخمینہ ہے۔ اس پروگرام کے تحت سب سے زیادہ سرمایہ کاری سڑکوں، سیوریج نظام اور پینے کے پانی کی فراہمی پر کی جائے گی۔ بجٹ میں اس کا اعلان ’وزیر اعظم مربوط شہری ترقیاتی اسکیم‘ کے طور پر کیا گیا تھا۔ اس پروگرام کا مقصد تمام شہری مقامی اداروں میں عالمی معیار کا بنیادی ڈھانچہ تیار کرنا ہے۔ اس کے تحت بنیادی خدمات میں بہتری، ماحولیات کی بحالی، صحت عامہ اور شہری نگرانی کو ایک ہی فریم ورک کے تحت لایا گیا ہے۔
شہری سڑکوں اور ٹرانسپورٹ کے لیے سب سے زیادہ 60000 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، اس کے بعد سیوریج کے بنیادی ڈھانچے کے لیے 50000 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ پینے کے پانی منصوبوں کے لیے 30350 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ حکومت نے ٹھوس کچرے کے انتظام کے لیے3000 کروڑ روپے دیے ہیں۔ آبی ذخائر کی بحالی اور سماجی بنیادی ڈھانچے کے لیے2000-2000 کروڑ روپے، جبکہ سرسبز علاقوں کی ترقی اور صحت عامہ کے اقدامات کے لیے 1500-1500 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اس پروگرام کا ایک اہم مقصد ہر گھر تک پانی فراہمی کا کنکشن یقینی بنانا ہے۔ اس پروگرام کے تحت میونسپل کارپوریشن کے علاقوں میں24 گھنٹے اور میونسپلٹیوں میں 3 گھنٹے پانی کی فراہمی کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان خدمات کی فراہمی کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے اقدامات بھی کیے جائیں گے۔ اس اسکیم کے تحت زیر زمین سیوریج نیٹ ورک کی مکمل کوریج کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔
ماحولیاتی اقدامات میں 5 کروڑ پودے لگانا اور آبی ذخائر کے ساتھ اڈیار اور کووم ندیوں کی بحالی شامل ہے۔ دیگر مجوزہ اقدامات میں جانوروں کی نس بندی کے مراکز قائم کرنا اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے لیس سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنا شامل ہے۔ تمل ناڈو اربن فائنانس اینڈ انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن، جسے ٹی یو ایف آئی ڈی سی او کے نام سے جانا جاتا ہے، سرکاری حکم کے مطابق اس پروگرام کو نافذ کرنے اور مالیاتی انتظام کی ذمہ دار ایجنسی کے طور پر کام کرے گا۔