ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل گلّمی میں گنیش وسرجن جلوس کے دوران مسجد و مدرسہ پر پتھراؤ کے بعد دو گرفتار؛ جوابی شکایت بھی درج

بھٹکل گلّمی میں گنیش وسرجن جلوس کے دوران مسجد و مدرسہ پر پتھراؤ کے بعد دو گرفتار؛ جوابی شکایت بھی درج

Fri, 18 Sep 2026 01:24:52    S O News
بھٹکل گلّمی میں گنیش وسرجن جلوس کے دوران مسجد و مدرسہ پر پتھراؤ کے بعد دو گرفتار؛ جوابی شکایت بھی درج

بھٹکل 17 ستمبر (ایس او نیوز): بھٹکل میں گنیش وسرجن جلوس کے دوران بدھ کی شب گلمی علاقے میں مسجد اور مدرسہ پر پتھراؤ کے واقعے کے بعد جو کشیدگی پیدا ہوگئی تھی، اس تعلق سے پولیس نے دو لوگوں کو گرفتار کرلیا ہے، جبکہ معاملے کو لے کر بی جے پی اور سنگھ پریوار کی طرف سے احتجاجی مظاہرے کے بعد مسلم لوگوں کے خلاف بھی ایک جوابی شکایت درج کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ جلوس جب مُٹھلی تلاند سے گلمی ہوتے ہوئے ریلوے اسٹیشن روڈ کی طرف بڑھ رہا تھا، اسی دوران راستے کے کنارے واقع اسماعیل سنی جامع مسجد اور تاج السنہ عربک مدرسہ پر اچانک پتھراؤ کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں مسجد کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے، جبکہ مدرسے میں موجود بچے خوفزدہ ہوکر عمارت کی بالائی منزل سے نیچے آگئے۔ واقعہ بدھ کی شب تقریباً 10 بجے پیش آیا تھا۔

واقعے کی اطلاع پھیلتے ہی کثیر تعداد میں مسلم نوجوان بھٹکل ٹاؤن پولیس تھانے کے باہر جمع ہوگئے اور مسجد و مدرسہ پر پتھراؤ کرنے والوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب جمعرات کی صبح دو افراد جیون نائک (22) اور دیوراج پجاری (24) کی گرفتاری کے بعد بی جے پی اور سنگھ پریوار کے لیڈران و کارکنان نے بھی پولیس تھانے کے سامنے احتجاج شروع کردیا۔ یوں ایک ہی واقعے کے بعد بھٹکل میں دونوں جانب سے الزامات کے بعد دو معاملات درج کئے گئے، جبکہ حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے سینئر پولیس افسران نے بھٹکل میں قیام کرتے ہوئے مختلف طبقات کے نمائندوں سے بات چیت کی اور بھٹکل میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے تعاون کی اپیل کی۔

bhatkal-gulmi-issue-31

رات کو مسجد پر پتھراؤ کی واردات کی اطلاع ملنے کے بعد ضلع سپرنٹنڈنٹ آف پولیس دیپن ایم این، ایڈیشنل ایس پی کرشنامورتی اور دیگر پولیس افسران بھٹکل پہنچے۔ حالات کی کشیدگی کے پیش نظر قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم کے صدر عنایت اللہ شاہ بندری، مسجد کے ذمہ داران عبدالعلیم گوائی، منیر احمد اور دیگر ذمہ داران بھی پولیس تھانے پہنچے۔ جمعرات کو ویسٹرن رینج آئی جی پی چیتن کمار بھی بھٹکل پہنچ گئے اور مقامی پولیس افسران کے ساتھ صورتحال کا جائزہ لیا۔ سینئر پولیس افسران نے مختلف طبقات کے نمائندوں سے ملاقات کرکے ان کے مسائل اور شکایات بھی سنیں۔

دوسری جانب گرفتاریاں عمل میں آنے کے بعد بی جے پی اور سنگھ پریوار کے لیڈران و کارکنان نے پولیس اسٹیشن کے سامنے احتجاج کیا۔ احتجاج میں تلاند کی بعض خواتین بھی شریک ہوئیں۔ بھٹکل کے سابق رکن اسمبلی سنیل نائک سمیت بی جے پی کے مقامی لیڈران نے الزام لگایا کہ اگر مسجد پر پتھراؤ کے معاملے میں کیس درج کیا گیا ہے تو گنیش جلوس پر پتھراؤ کے تعلق سے بھی معاملہ درج کیا جائے، کیونکہ ان کے مطابق مسلم لڑکوں نے پہلے جلوس پر پتھراؤ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ واقعہ پیش نہ آتا تو مسجد اور مدرسہ پر پتھراؤ کا واقعہ بھی پیش نہ آتا۔

احتجاج کرنے والوں نے الزام لگایا کہ پولیس نے جلوس پر پتھر پھینکنے والوں کو چھوڑ کر صرف ایک طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو گرفتار کیا ہے۔ سنیل نائک نے الزام لگایا کہ واقعے کے پیچھے مبینہ طور پر بچوں کو استعمال کیا گیا یا انہیں اکسایا گیا، اس لیے ایسے لوگوں کی شناخت کرکے کارروائی کی جائے۔ پولیس نے مظاہرین کو یقین دلایا کہ گرفتار افراد کے خلاف کارروائی شواہد اور تحقیقات کی بنیاد پر کی جائے گی اور اگر ان کا واقعے میں کوئی کردار ثابت نہ ہوا تو انہیں رہا کردیا جائے گا۔

بی جے پی لیڈران کا کہنا ہے کہ مُٹھلی تلاند سے گنیش وسرجن جلوس تقریباً دو کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے ہوئے ریلوے اسٹیشن کے قریب ناگامستی ندی کی جانب بڑھ رہا تھا۔ ان کے مطابق، جیسے ہی جلوس رام چندر نائک کے مکان کے قریب پہنچا، وہاں مبینہ طور پر سڑک کے کنارے موجود کچھ کم عمر لڑکوں نے جلوس کی طرف پتھر پھینکے۔

دوسری جانب مسجد اور مدرسہ کی طرف سے بات کرتے ہوئے بزم فیض الرسول کے رکن منیر احمد نے بی جے پی لیڈران کے الزامات کو من گھڑت کہانی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسجد اور مدرسے پر حملوں کو جواز فراہم کرنے کے لیے گنپتی کے جلوس پر پتھراؤ کا جھوٹ گھڑا جارہا ہے۔ انہوں نے گنیش جلوس پر پتھراؤ کیے جانے کی بات سے سرے سے انکار کرتے ہوئے واضح کیا کہ مسجد یا مدرسہ میں موجود کسی بھی شخص نے ایسا کوئی عمل نہیں کیا۔

منیر احمد نے کہا کہ جلوس کے ساتھ پولیس کے اہلکار بھی موجود تھے، اس لیے اگر ایسا واقعہ پیش آیا ہوتا تو رات کو ہی پولیس کے علم میں آجاتا، مگر مسجد پر پتھراؤ کا معاملہ درج کیے جانے کے بعد اب من گھڑت کہانی بنائی جارہی ہے۔

بعد میں بی جے پی اور سنگھ پریوار کی جانب سے بھی پولیس اسٹیشن میں ایک جوابی شکایت درج کرائی گئی۔ اس طرح پولیس نے پورے معاملے میں بھٹکل شہری پولیس تھانے میں دو الگ الگ مقدمات درج کیے ہیں۔

اس درمیان پولیس ذرائع کی طرف سے اطلاع ملی ہے کہ گنیش وسرجن جلوس پر پتھراؤ نہیں کیا گیا تھا، البتہ ابتدائی طور پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ سڑک کے کنارے موجود بعض کم عمر لڑکے جلوس کی طرف ناریل پھینکتے ہوئے پائے گئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی حقیقت کی مکمل جانچ کی جارہی ہے اور قصور ثابت ہونے پر متعلقہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

bhatkal-gulmi-issue-4

واقعے کے بعد بھٹکل میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس نے نگرانی سخت کردی ہے۔ جمعرات کی صبح سے پولیس افسران نے مختلف طبقات کے قائدین اور نمائندوں کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں کرکے ان کے مسائل اور شکایات سنیں۔ جمعہ کو گنیش وسرجن کے آخری دن بڑا جلوس نکالے جانے کے پیش نظر بھٹکل میں ریپیڈ ایکشن فورس بھی منگوائی گئی ہے، جسے حساس مقامات پر تعینات کیا جائے گا۔

مسلم لیڈران سے گفتگو کے دوران پولیس کے اعلیٰ حکام نے یقین دلایا کہ بالخصوص جلوس جن جن علاقوں سے گزرے گا، وہاں آنے والی مساجد کے باہر پولیس اور ریپیڈ ایکشن فورس تعینات کی جائے گی۔ اس موقع پر مسلم رہنماؤں نے پولیس سے یہ درخواست بھی کی کہ جس طرح گنیش وسرجن کے دوران ڈی جے پر پابندی عائد کی گئی ہے، جمعہ کو نکلنے والے وسرجن جلوس کے دوران اس پابندی  کو سختی کے ساتھ نافذ کیا جائے۔

پولیس حکام نے بھٹکل کے تمام عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس کے ساتھ تعاون کریں اور امن و امان کو خراب کرنے کی کسی بھی کوشش یا شرارت کو کامیاب نہ ہونے دیں۔

Click here for Special Video report


Share: