ماسکو،22/مارچ (ایس او نیوز/ایجنسی) ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان برطانیہ نے اپنی ایک جوہری طاقت سے چلنے والی رائل نیوی آبدوز عرب سمندر میں تعینات کر دی ہے، جو کروز میزائل حملے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ برطانوی میڈیا نے فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یہ پیش رفت خطے میں ممکنہ فوجی کارروائی کے امکانات کو مزید تقویت دیتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق آبدوز ’ایچ ایم ایس 19‘ جدید ہتھیاروں سے لیس ہے، جن میں ٹوماہاک بلاک فور لینڈ اٹیک میزائلیں اور اسپیئر فش ہیوی ویٹ ٹارپیڈو شامل ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ آبدوز شمالی عرب سمندر کے گہرے پانیوں میں موجود ہے، جہاں سے کسی بھی وقت کارروائی ممکن ہو سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی مزید بڑھی اور برطانوی وزیر اعظم کی جانب سے اجازت دی گئی تو اس آبدوز کو میزائل فائر کرنے کا حکم دیا جا سکتا ہے۔ ایسی صورت میں آبدوز سطح کے قریب آ کر بیک وقت کئی میزائل داغنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ادھر برطانوی حکومت نے حالیہ دنوں میں امریکہ کو اپنے فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت دینے پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس اقدام کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو درپیش خطرات کو کم کرنا اور ایران کی جانب سے مبینہ طور پر استعمال ہونے والی میزائل تنصیبات کو نشانہ بنانا بتایا گیا ہے۔
برطانوی وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ برطانیہ بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر سمندری راستوں کے تحفظ کے لیے منصوبہ بندی کر رہا ہے، تاہم ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا کہ وہ کسی بڑے تنازع میں شامل ہونے کا خواہاں نہیں۔
دوسری جانب ایران نے برطانیہ کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کی کسی بھی فوجی کارروائی میں تعاون سے گریز کرے۔ ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اپنے برطانوی ہم منصب کو خبردار کیا کہ اس طرح کی مدد خطے میں تناؤ کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
ایران نے حالیہ دنوں میں بحر ہند میں واقع اہم فوجی اڈے ڈیگو گارشیا کی سمت دو بیلسٹک میزائل داغے، تاہم دونوں اپنے ہدف تک نہیں پہنچ سکے۔ ایک میزائل دوران پرواز ناکام ہو گیا جبکہ دوسرے کو امریکی بحری دفاعی نظام نے روکنے کی کوشش کی۔ اس واقعے کے بعد ایران کی میزائل صلاحیت پر سوالات کے ساتھ ساتھ خدشات بھی بڑھ گئے ہیں، کیونکہ ڈیگو گارشیا ایرانی حدود سے تقریباً چار ہزار کلومیٹر دور واقع ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال خطے میں مزید غیر یقینی اور کشیدگی کو جنم دے سکتی ہے۔