بنگلورو | 8 نومبر (ایس او نیوز) : کرناٹک کی سیاست میں مرکزی وزیر ایچ ڈی کمارسوامی اور ریاستی وزیر پریانک کھرگے کے درمیان لفظی جنگ اب پوسٹر مہم تک پہنچ گئی ہے۔ کمارسوامی کے خلاف پریانک کھرگے کے ’ہلی گُگّو‘ (گاؤں کا احمق) والے تبصرے اور اس کے جواب میں کمارسوامی کے ’بالِت دلت‘ (ترقی یافتہ دلت) کے بیان نے سیاسی تنازعے کو مزید بڑھا دیا ہے۔
تنازعے کی ابتدا کیسے ہوئی؟
اس تنازعے کی ابتدا ایک اسٹنگ آپریشن سے متعلق تحقیقات پر کمارسوامی کی تنقید سے ہوئی۔ پریانک کھرگے نے ان کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے ’ہلی گُگّو‘ کی اصطلاح استعمال کی، جس پر کمارسوامی نے سخت اعتراض کیا۔
کمارسوامی نے سوشل میڈیا پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے دیہی پس منظر پر فخر ہے اور مہاتما گاندھی نے بھی کہا تھا کہ ہندوستان کی روح گاؤں میں بستی ہے۔ انہوں نے ’گاؤں والے احمق نہیں ہوتے‘ کے پیغام کے ساتھ سوشل میڈیا مہم شروع کی۔
’ترقی یافتہ دلت‘ پر سیاسی تنازعہ
بعد ازاں کمارسوامی نے پریانک کھرگے کو ’بالِت دلت‘ یعنی ترقی یافتہ دلت قرار دیتے ہوئے ان کی سیاسی ترقی اور خاندانی پس منظر پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کانگریس صدر ملکارجن کھرگے اور ریزرویشن کی سیاست پر بھی تنقید کی۔
اس بیان پر کانگریس حلقوں میں ردعمل سامنے آیا اور بحث دلتوں کی سیاسی نمائندگی، ریزرویشن اور سماجی ترقی تک پہنچ گئی۔
جے ڈی ایس دفتر کے باہر یوتھ کانگریس کی پوسٹر مہم
کمارسوامی کے بیان کے جواب میں یوتھ کانگریس کارکنوں نے بنگلورو میں جے ڈی ایس دفتر کے باہر پریانک کھرگے کی حمایت میں پوسٹر لگائے۔ پوسٹر میں طنزیہ انداز میں پیغام دیا گیا:
’’ہاں، میں ترقی یافتہ دلت ہوں۔ میری ترقی آئین اور کانگریس کی وجہ سے ہوئی ہے، آپ کے گھر کے آلو کی وجہ سے نہیں۔‘‘
اس پوسٹر کے ذریعے کانگریس نے دلتوں کی ترقی، آئینی حقوق اور سیاسی خودمختاری کے حوالے سے اپنا مؤقف پیش کیا۔
پریانک کھرگے کا مزید جواب
پریانک کھرگے نے جے ڈی ایس کی ’گاؤں والے‘ پوسٹر مہم پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کمارسوامی کے بنگلورو کے تاج ویسٹ اینڈ ہوٹل میں قیام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اقتدار میں رہتے ہوئے انہیں گاؤں یاد نہیں آتا، لیکن اقتدار سے باہر ہونے پر دیہی شناخت کا سوال اٹھایا جاتا ہے۔
سیاسی کشمکش کا نیا رخ
کمارسوامی اور پریانک کھرگے کے درمیان جاری تنازعے میں اب دیہی شناخت اور دلت سماج کی ترقی دو اہم سیاسی موضوعات بن گئے ہیں۔ جے ڈی ایس دیہی عوام کے وقار کا مسئلہ اٹھا رہی ہے، جبکہ کانگریس آئینی حقوق اور دلتوں کی سماجی و سیاسی ترقی کو اپنا مؤقف بنا رہی ہے۔
یوں ایک دوسرے پر لفظی حملوں سے شروع ہونے والی یہ سیاسی کشمکش اب پوسٹر اور بینر مہم کی شکل اختیار کرچکی ہے۔