ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / اداریہ / میرے بغیر اسرائیل وجود میں نہ ہوتا؛ امریکی صدر کے اس بیان پر عالمی سطح پر چھڑ گئی بحث

میرے بغیر اسرائیل وجود میں نہ ہوتا؛ امریکی صدر کے اس بیان پر عالمی سطح پر چھڑ گئی بحث

Wed, 17 Jun 2026 01:03:52    S O News
میرے بغیر اسرائیل وجود میں نہ ہوتا؛ امریکی صدر کے اس بیان پر  عالمی سطح پر چھڑ گئی بحث

واشنگٹن 16/جون (ایس او نیوز): امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایک ایسا بیان دیا ہے جس نے عالمی سطح پر بحث چھیڑ دی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ “میرے بغیر اسرائیل نہ ہوتا”، اور ساتھ ہی اسرائیلی وزیر اعظم بینجامن نیتن یاہو پر زور دیا کہ وہ خطے میں جاری کشیدگی کے معاملے میں زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ، ایران، اسرائیل اور لبنان کے حوالے سے اہم سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ 

بیان کب اور کس تناظر میں دیا گیا؟
مصری عربی میڈیا صدا البلد کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ "میرے بغیر اسرائیل نہ ہوتا"۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے یہ بات امریکہ اور اسرائیل کے درمیان قریبی تعاون اور ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے تناظر میں کہی۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کی پالیسیوں اور اقدامات نے اسرائیل کی سلامتی اور علاقائی حیثیت کو مضبوط بنایا ہے۔ 

اسرائیل اور نیتن یاہو پر ٹرمپ کی تنقید
حالیہ دنوں میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان اختلافات کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔ متعدد بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر ناراضی ظاہر کی اور کہا کہ اسرائیل کے بعض اقدامات ایران کے ساتھ طے پانے والے ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ انہوں نے نیتن یاہو کو "زیادہ ذمہ دار" ہونے کا مشورہ بھی دیا۔ 
 
امریکی میڈیا کیا کہتا ہے؟
امریکی میڈیا بالخصوص واشنگٹن پوسٹ نے اپنی حالیہ رپورٹس میں لکھا ہے کہ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی پر مضبوط گرفت نے نیتن یاہو کے لیے واشنگٹن میں سیاسی حمایت حاصل کرنے کے متبادل راستے محدود کر دیے ہیں۔ اخبار کے مطابق اسرائیلی قیادت کو اس وقت امریکی صدر کے ساتھ تعلقات میں ایک نازک مرحلے کا سامنا ہے کیونکہ ٹرمپ خطے کے معاملات میں زیادہ براہ راست اثر و رسوخ استعمال کر رہے ہیں۔ 

واشنگٹن پوسٹ کی ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی حملوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فریقین کو ممکنہ معاہدے کو "تباہ نہیں کرنا چاہیے"۔ 
  
الجزیرہ اور عرب میڈیا کا زاویہ
الجزیرہ نے اپنی رپورٹس میں اس بات پر زور دیا کہ ٹرمپ حالیہ ہفتوں میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سرگرم رہے ہیں۔ الجزیرہ کے مطابق ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے اسرائیلی قیادت اور ثالثوں کے ذریعے حزب اللہ سے رابطے کر کے حملوں میں کمی پر آمادگی حاصل کی۔ 

عرب میڈیا میں ٹرمپ کے "میرے بغیر اسرائیل نہ ہوتا" والے بیان کو ان کے روایتی اندازِ سیاست اور اسرائیل کے لیے اپنی سابقہ حمایت کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بیان دراصل اس تاثر کو مضبوط کرنے کی کوشش ہے کہ اسرائیل کے لیے امریکی حمایت میں ٹرمپ کا کردار غیر معمولی رہا ہے۔ 
  
ٹرمپ اور ان کے حامی اکثر ان پالیسیوں کا حوالہ دیتے ہیں جن میں:
یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا،
امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنا،
ابراہم معاہدوں (Abraham Accords) کی سرپرستی،
اسرائیل کے حق میں متعدد سفارتی اقدامات شامل ہیں۔

اسی پس منظر میں ٹرمپ بار بار یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ انہوں نے اسرائیل کے لیے وہ کام کیے جو دوسرے امریکی صدور نہیں کر سکے۔ حالیہ بیان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی سمجھا جا رہا ہے۔ 
 
ردِعمل اور سیاسی اہمیت
ٹرمپ کے اس بیان نے سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں متضاد ردِعمل پیدا کیا ہے۔ ان کے حامی اسے اسرائیل کے لیے ان کی تاریخی حمایت کا اظہار قرار دے رہے ہیں، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ بیان حد سے زیادہ شخصی نوعیت کا ہے اور اسرائیل جیسے ملک کے وجود کو کسی ایک امریکی رہنما سے منسوب کرنا تاریخی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔

ٹائمز آف انڈیا کے تجزئیے کے مطابق "میرے بغیر اسرائیل نہ ہوتا" کا بیان صرف ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری پیچیدہ سفارتی کشمکش کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ ایک طرف اسرائیل کی حمایت کا کریڈٹ لے رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف نیتن یاہو کی بعض پالیسیوں پر تنقید بھی کر رہے ہیں۔ اس بیان نے ایک بار پھر امریکی خارجہ پالیسی، اسرائیل کے ساتھ تعلقات اور مشرق وسطیٰ میں ٹرمپ کے کردار پر بحث کو تیز کر دیا ہے۔ 


Share: