ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / جمہوریت کی مضبوطی کیلئے آئینی اقدار کا تحفظ ضروری: ڈاکٹر جی پرمیشور

جمہوریت کی مضبوطی کیلئے آئینی اقدار کا تحفظ ضروری: ڈاکٹر جی پرمیشور

Wed, 16 Sep 2026 11:51:50    S O News

بنگلورو ، 16/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور نے کہا کہ جن ممالک میں آزاد اور منصفانہ انتخابات، انسانی حقوق کا احترام، صحافتی آزادی، حکمرانی میں عوام کی شرکت، جواب دہی اور شفافیت موجود ہے، وہاں ہی پُرامن ماحول قائم رہتا ہے اور یہی جمہوریت کی اصل روح ہے۔وہ منگل کو ودھان سودھا کے بینکوئٹ ہال میں محکمہ سماجی بہبود کے زیرِ اہتمام منعقدہ بین الاقوامی یومِ جمہوریت کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔

ڈاکٹر جی پرمیشور نے کہا کہ دنیا میں تقریباً 90 جمہوری ممالک ہیں، جبکہ دیگر ممالک کے سیاسی اور انتظامی نظام مختلف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکا، بنگلہ دیش، پاکستان اور نیپال جیسے پڑوسی ممالک میں گزشتہ برسوں کے دوران رونما ہونے والے واقعات سب کے سامنے ہیں۔ ہندوستان میں ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی جانب سے رکھی گئی جمہوری بنیاد مضبوط ہے، اسی لیے جمہوریت کو کمزور کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوسکیں۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی تقریباً 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، جن میں بڑی تعداد 16 سے 35 سال کی عمر کے افراد کی ہے۔ یہی نسل ملک کے مستقبل کی تشکیل کرے گی۔ موجودہ دور کو نئی نسل کا دور قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو اہمیت دینا اور انہیں آئینی و جمہوری اقدار سے آراستہ کرنا ضروری ہے۔

نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نوجوان نسل کو ایک بہتر سیاسی نظام منتقل کرنا موجودہ نسل کی ذمہ داری ہے۔ ریاستی حکومت اسی مقصد کے تحت مسلسل اقدامات کررہی ہے۔ اسکولوں، کالجوں اور گھروں تک آئین کی تمہید پہنچائی گئی ہے تاکہ طلبہ اور نوجوان آئینی اقدار سے واقف ہوں اور جمہوریت کی اہمیت کو سمجھ سکیں۔

ڈاکٹر پرمیشور نے ہندوستان کی جمہوری روایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 12ویں صدی میں کرناٹک میں بسونا کی قیادت میں مساوات اور عوامی شرکت پر مبنی ایک منفرد روایت سامنے آئی۔ ان کے مطابق علامہ پربھو کی صدارت میں قائم تجربہ منٹپ میں مختلف ذاتوں اور طبقات کو اظہارِ خیال کا موقع دیا جاتا تھا۔ انہوں نے اسے دنیا کے ابتدائی جمہوری اداروں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی جمہوری روایت کی جڑیں بہت گہری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں برطانوی پارلیمنٹ کو جمہوریت کا ’’باپ‘‘ کہا جاتا ہے، لیکن ہندوستان کی جمہوری روایت اس سے کہیں قدیم ہے۔ ان کے مطابق ہندوستان میں مساوات اور جمہوری اقدار کی مضبوط بنیاد ہی ملک کے جمہوری نظام کو مستحکم رکھے ہوئے ہے۔

انتخابی نظام کے حوالے سے ڈاکٹر پرمیشور نے مرکزی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ انتخابی نظام کو کمزور کرکے اقتدار میں مستقل طور پر برقرار رہنے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ انتخابی نظام کو نقصان پہنچنے کا سب سے زیادہ اثر معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات پر پڑے گا، جن میں دلت، پسماندہ طبقات اور اقلیتیں شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر نے ان طبقات کے تحفظ اور انہیں مساوی مواقع فراہم کرنے کے لیے آئینی تحفظات فراہم کیے تھے۔ ریزرویشن پر اٹھائے جانے والے سوالات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدیوں سے محرومی اور سماجی ناانصافی کا سامنا کرنے والے طبقات کو ترقی کے مرکزی دھارے میں لانے کے مقصد سے ریزرویشن کا نظام وضع کیا گیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا تاریخی طور پر محروم طبقات کو ترقی کے یکساں مواقع نہیں ملنے چاہئیں۔ ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ جمہوریت ایسا نظام ہے جو انقلاب یا خونریزی کے بغیر عوام کی معاشی اور سماجی زندگی میں بنیادی تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر امبیڈکر کے اس اصول کا حوالہ دیا کہ سیاسی جمہوریت کی بنیاد سماجی جمہوریت کے بغیر مضبوط نہیں ہوسکتی۔

انہوں نے کہا کہ اگر سیاسی نظام عوام کے جذبات اور ان کے فیصلوں کو سمجھنے میں ناکام ہوجائے تو وہ دیرپا نہیں رہ سکتا۔ ان کے مطابق آئین کی تشکیل کو تقریباً آٹھ دہائیاں گزرنے کے باوجود اس کی اہمیت اور قوت برقرار ہے، اس لیے آئینی اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر شعوری کوشش ضروری ہے۔

تقریب میں وزیر سماجی بہبود کے ایچ منیپا، وزیر خوراک و شہری رسد رضوان ارشد، وزیر کنڑ و ثقافت شیوراج ایس تنگڈگی، سابق وزیر سماجی بہبود و رکن اسمبلی ڈاکٹر ایچ سی مہادیواپا، ارکان اسمبلی پربھو پاٹل اور اشوک منگولی، قانون ساز کونسل کے رکن ڈی ٹی سرینواس، کرناٹک اسٹیٹ بار کونسل کے صدر وویک سبرّا ریڈی، خانہ بدوش ترقیاتی کارپوریشن کی صدرنشین پلوّی، ضمانتی اسکیموں کے نائب صدر پی ٹی پرمیشور نائک سمیت متعدد معززین موجود تھے۔


Share: